اور نیاز لگی بٹنے

286

ایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن اِن دنوں نیب کی حوالات میں ہیں ان پر جعلسازی سے 54 کنال زمین اپنے نام الاٹ کرانے کا الزام ہے۔ کیس 34 سال پرانا ہے لیکن گرفتاری اُس وزیراعظم کے دور میں عمل میں آئی ہے جس کا نعرہ ہے کہ کسی فراڈیے کو نہیں چھوڑوں گا۔ اگرچہ گرفتاریاں ’’پک اینڈ چوز‘‘ (Pick and Chouse) کے اصول کے تحت ہورہی ہیں لیکن لوگ پکڑے بھی جارہے ہیں اور چھوٹ بھی رہے ہیں۔ اس پکڑ دھکڑ میں میر شکیل الرحمن کی گردن بھی شکنجے میں آگئی ہے۔ بااثر میڈیا گروپ کے مالک ہونے کے ناتے ان کی گرفتاری کو صحافت کی آزادی پر حملہ قرار دیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ میر صاحب کا میڈیا گروپ چوں کہ وزیراعظم اور ان کی حکومت پر تنقید کررہا تھا اس لیے اس کا منہ بند کرنے کے لیے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن خود صحافیوں کی رائے اس کے برعکس ہے وہ کہتے ہیں کہ میر شکیل الرحمن کا صحافت سے کیا تعلق؟ وہ خود کو بزنس مین ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ میڈیا کے ذریعے کاروبار کررہے ہیں اور اس کاروبار کا مقصد صرف اور صرف پیسا کمانا ہے، انہیں جہاں سے بھی پیسا آتا نظر آتا ہے وہ اس کی طرف لپکتے ہیں اور اسے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خواہ یہ پیسا ’’امن کی آشا‘‘ کے ذریعے آرہا ہو، عورت مارچ کے ذریعے آرہا ہو، فحاشی اور بے حیائی کے ذریعے آرہا ہو یا قادیانیت کی سرپرستی کے ذریعے آرہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے وکیل اعتزاز احسن نے انہیں احتساب عدالت میں بطور بزنس مین پیش اور بزنس کمیونٹی کے درمیان ایک معاہدے کے تحت نیب بزنس مین کو پکڑنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ قطع نظر اس بحث کے کہ میر صاحب میڈیا مین ہیں یا بزنس مین، یہ حقیقت ہے کہ جنگ، دی نیوز اور جیو کے کارکنوں کے علاوہ کسی اور میڈیا گروپ کے کارکنوں نے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی نہیں کیا۔ اے پی این ایس نے ان کے حق میں بیان ضرور دیا ہے اور ان کی گرفتاری کو روایتی انداز میں آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا ہے لیکن میڈیا گروپوں کے درمیان پیشہ ورانہ رقابت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، کئی ایک میر صاحب کی گرفتاری پر جشن منارہے ہیں اور انہیں میڈیا کا فرعون قرار دے رہے ہیں۔
جو کارکن میر شکیل الرحمن کے حق میں مظاہرہ کررہے ہیں، پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کررہے ہیں اور پریس کلب کے باہر دھرنا دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ ایسا نہ کریں تو میر صاحب قید سے باہر آکر انہیں نوکری سے نکال دیں گے اور انہیں بیوی بچوں کے ہمراہ فاقے کرنے پڑیں گے۔ وہ اس آزمائش میں نہیں پڑنا چاہتے۔ ہم نے ایک کارکن کو کُریدا تو وہ کہنے لگا، سچ پوچھیے تو ہم شکیل الرحمن کی گرفتاری پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ابھی جیل ہی میں رہیں، پھر اس نے ایک نہایت بیہودہ محاورہ بولتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری سے نیاز بٹ رہی ہے اور ہمارے بیوی بچے مستفیض ہورہے ہیں ورنہ کئی کئی مہینوں سے تنخواہیں رُکی ہوئی تھیں اور ہمارے گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ گئے تھے۔ اس گرفتاری کا خوش گوار نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تنخواہیں جاری ہوگئی ہیں، نیز جن کارکنوں کو برطرفی کے نوٹس جاری کیے گئے تھے وہ واپس لے لیے گئے ہیں، جب کہ اس سے پہلے میر صاحب بہت سے کارکنوں کو نکال بھی چکے ہیں۔ ہمیں یاد آیا کہ اب اِن اخبارات میں ریگولر ملازمین بہت تھوڑے رہ گئے ہیں، بیشتر کنٹریکٹ پر ملازم ہیں، ریگولر ملازمین کو قانون تحفظ دیتا ہے انہیں نکالنا آسان نہیں ہوتا، جب کہ کنٹریکٹ ملازمین آجر کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں وہ جب چاہے انہیں نکال دے ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ اخباری ملازمین کے ویج بورڈ کا اطلاق بھی صرف ریگولر ملازمین پر ہوتا ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ بڑے میر صاحب (میر خلیل الرحمن مرحوم) کے زمانے میں سب اخباری کارکن ریگولر ہوتے تھے، ان کی بہت مضبوط ورکرز یونین ہوا کرتی تھی جو ہر سال اخبار کی انتظامیہ کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتی اور اپنے جائز مطالبات منواتی تھی۔ بڑے میر صاحب کارکنوں کے ساتھ تعاون پر یقین رکھتے تھے، وہ کہتے تھے کہ کارکنوں کے ساتھ محاذ آرائی سے ادارے کا نقصان ہوتا ہے، ان کے ساتھ بنا کر رکھنی چاہیے لیکن ان کی وفات کے بعد جب میر شکیل الرحمن جنگ کے امپائر کے مالک بنے تو ان کی پہلی کوشش یہ تھی کہ ریگولر ملازمین سے پیچھا چھڑایا جائے تا کہ انہیں ہائر اینڈ فائر کرنے میں قانون حائل نہ ہو اور وہ انہیں اپنی انگلیوں پر نچا سکیں۔ چناں چہ انہوں نے ریگولر ملازمین کو یہ لالچ دیا کہ اگر وہ اپنی ریگولر ملازمت سے مستعفی ہوجائیں تو انہیں نہایت پُرکشش پیکیج پر دوبارہ ملازم رکھا جائے گا۔ بہت سے کارکنوں نے ان کی یہ پیشکش قبول کرلی، اس طرح ان کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ تو ہوگیا لیکن وہ اپنی فیملی کے میڈیکل کور، سال میں ایک ماہ کی باتنخواہ رخصت، سال میں پندرہ دن کی باتنخواہ، اتفاقی رخصت اور بیماری کی صورت میں باتنخواہ غیر معینہ رخصت سے محروم ہوگئے۔ بڑے میر صاحب کے زمانے سے ریگولر کارکنوں کو سال میں چھ بونس مل رہے تھے، کنٹریکٹ پر ملازم ہونے کے بعد کارکنوں کو اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔ اس طرح وہ سراسر خسارے میں رہے اور برطرفی کی تلوار بھی ہر وقت ان کے سر پر لٹکنے لگی۔ یوں ایک سرمایہ دار نے نہایت عیاری کے ساتھ کارکنوں کو مات دے دی اور ان کی متحد قوت کو منتشر کردیا۔ یہ بھی ایک الگ کہانی ہے کہ انہوں نے کارکنوں کو ہائر کرنے کے لیے ایک جعلی کمپنی بنائی اور اس کے ذریعے کارکنوں کو ملازم رکھا۔
اب میر شکیل الرحمن پر افتاد پڑی ہے تو یہی کارکن انہیں بچانے نکلے ہیں وہ ان کے لیے احتجاج کررہے ہیں، احتجاجی کیمپ لگارہے ہیں، احتجاجی ریلی نکال رہے ہیں، وہ میر صاحب کی گرفتاری کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دے رہے ہیں لیکن اندر سے خوش ہیں کہ اونٹ پہاڑ تلے آیا ہے اور اسے آٹے دال کا بھائو معلوم ہوا ہے۔ اسے پہلی مرتبہ کارکنوں کی اہمیت کا احساس ہوا ہے، وہ خوش ہیں کہ نیاز بٹ رہی ہے اور وہ کھارہے ہیں اور ان کے سروں سے برطرفی کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ ورنہ یہی میر شکیل الرحمن تھے جو کسی کارکن کو نکالتے تھے تو بہت ذلیل کرکے نکالتے تھے، اس کی باقاعدہ اخبار میں تصویر چھاپتے تھے اور اسے دفاع کا موقع دیے بغیر اتنے الزام لگتے تھے کہ اس کے لیے کہیں اور ملازمت حاصل کرنا دشوار ہوجاتا تھا۔