مسلم ممالک کونمازباجماعت و جمعہ منسوخ کرنے کا اختیار ہے‘ جامعہ الازہر

81

اسلام آباد (اے پی پی) کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر مصر کی ممتاز جامعہ الازہر کے علما کی سپریم کونسل نے مصدقہ طبی معلومات اور انسانی زندگی کے تحفظ کے عظیم تر مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے باجماعت اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر پابندی عاید کرنے کے حوالے سے باضابطہ فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد میں مصر کے سفیر کے ذریعے شیخ الازہر سے کورونا وائرس کی وبا کے سلسلے میں مذہبی فرائض کی ادائیگی کے حوالے سے رہنمائی کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس سلسلے میں جامعہ الازہر کے علما کی سپریم کونسل نے مصدقہ طبی معلومات اور انسانی زندگی کے تحفظ کے عظیم تر مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے باجماعت اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر پابندی عاید کرنے کے حوالے سے باضابطہ فتویٰ جاری کر دیا ہے۔ صدر مملکت نے فتویٰ کے اجرا پر شیخ الازہر کا شکریہ بھی ادا کیا۔ فتویٰ میں قرار دیا گیا ہے کہ تمام شواہد واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوامی اجتماعات بشمول با جماعت نماز کورونا وائرس کے پھیلائو کا باعث بنتے ہیں۔ مسلمان ممالک میں سرکاری حکام کو باجماعت نماز و جمعہ کی نمازوں کو منسوخ کرنے کا پورا اختیار ہے۔ اس سلسلے میں درپیش حالات کو مدنظر رکھا جائے، مؤذن حضرات کو ’’صلوٰۃ فی بیوتکم‘‘ (گھروں میں نماز ادا کریں) کے ساتھ ترمیم شدہ اذان دینی چاہیے جبکہ اہل خانہ اپنے گھروں میں باجماعت نماز کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ بالخصوص بحران کی صورتحال میں طبی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے مجاز ریاستی حکام کے احکامات کی پیروی کریں اور غیر سرکاری ذرائع سے اطلاعات اور افواہوں پر عمل سے گریز کریں۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کورونا وبا اور اس کے متعلق مصدقہ طبی معلومات ہیں کہ یہ وائرس بڑی آسانی اور تیزی سے پھیلتا ہے اور یہ کہ انسانی زندگیوں کو بچانا اور انہیں تمام خطرات و نقصانات سے محفوظ رکھنا اسلامی قانون کے عظیم مقاصد میں سے ہیں۔ان مقاصد کی تکمیل کے لیے علما سپریم کونسل یہ فتویٰ جاری کرتی ہے کہ ہر مسلمان ملک میں ریاستی عہدیداروں کو اجازت ہے کہ وہ تمام عوامی اجتماعات بشمول باجماعت نماز اور جمعہ کی نمازوں پر وائرس کے پھیلائو اور لوگوں کی اموات کے خدشے کے پیش نظر قانونی طور پر پابندی لگا سکتے ہیں۔ مزید برآں معمر افراد اپنے گھروں پر رہیں، باجماعت اور جمعہ کی نمازوں میں شرکت نہ کریں اور رائج طبی رہنما اصولوں کی پیروی کریں۔ اسلامی قانون تمام مسلمانوں کی فلاح اور حفاظت یقینی بناتا ہے جیسا کہ صحیحین کی 2 احادیث میں بیان کیا گیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ عبداﷲ ابن عباسؓ نے اپنے مؤذن کو ہدایت کی کہ وہ اذان میں ترمیم کریں تاکہ لوگ گھروں پر نماز ادا کر سکیں اور بارش میں مسجد جانے سے اجتناب کریں۔ چونکہ یہ وبا بارش سے زیادہ خطرناک ہے اس لیے باجماعت اور جمعہ کی نمازوں پر پابندی کی اجازت ہے۔ مزید برآں ابو دائود نے ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ پیغمبراسلام حضرت محمدؐ نے فرمایا کہ ’’بیماری کا خوف باجماعت نماز چھوڑنے کے لیے عذر ہے‘‘۔ اسی طرح عبدالرحمن ؓبن عوف نے بیان کیا کہ پیغمبر نے ان لوگوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے سے منع فرمایا جو دوسرے لوگوں کے لیے ناگوار بدبو کا باعث ہوں تاکہ دوسرے لوگ اس (بدبو) سے محفوظ رہ سکیں۔ لہٰذا ان شواہد کی بنا پر الازہر کے علما کی سپریم کونسل نے فتویٰ دیا ہے کہ مسلمان ممالک میں سرکاری حکام کو باجماعت نماز و جمعہ کی نمازوں کو منسوخ کرنے کا پورا اختیار ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اس فتوے کی بنیاد پر علما کرام اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ جلد از جلد ان ہدایات کی روشنی میں احکامات صادر کیے جائیں۔