نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے۔۔۔

520

کورونا کرہ ارض پر کسی دوسری مخلوق اور دوسرے سیارے کے خونیں حملہ آور کی یلغار بن گیا ہے۔ اس سے ملتے جلتے مناظر مغرب کے ادب میں فکشن اور ہالی ووڈ کی فلموں میں عملی طور پر دکھائے جاتے رہے ہیں۔ آج ایک نادیدہ اور حقیر شے نے انسانوں کو وہ سبق یاد دلا دیا ہے جسے وہ مدت دراز سے بھلائے بیٹھا تھا۔ کورونا نے انسانوں کو ایک بار پھر انسانیت کی ٹوٹی اور بکھری ہوئی لڑی میں پرودیا ہے۔ جغرافیائی حد بندیاں، ہوائیں اور فضائیں، امیر وغریب کی تفریق، مذاہب اور قوموں کی تقسیم سب کچھ وقتی طور پر ختم ہوگیا ہے اور تمام دنیا ترقی اور طاقت کے تمام سبق بھلا کر وائرس کا تعاقب کررہی ہے یا اس سے بچائو کے لیے فصیلوں اور قلعوں کی تعمیر میں مصروف ہو گئی ہے۔ کورونا اپنی تباہ کاریاں پیچھے چھوڑ کر آخر ایک روز غائب تو ہو جائے گا مگر اس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی یہ سوال ابھی اسے اُٹھایا جا رہا ہے؟۔ اس سوال کی وجہ یہ ہے کہ کورونا ایک سیلابی ریلے کی طرح مضبوط معیشتوں کے نیچے سے گزر رہا ہے۔ کاروباری مراکز کی بندش، سرحدوں کا سیل ہونے،لاک ڈائون اور وبا پر قابو پانے کے بے پناہ اخراجات نے لامحالہ دنیا کے ہر ملک کی معیشت کو کم یا زیادہ نقصان ضرور پہنچایا ہے۔ اس تباہ کاری کا اندازہ سیلابی ریلا گزر جانے کے بعد ہو گا۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ سیلابی ریلا آبادیوں کے بیچوں بیچ گزر جائے اور اپنے پیچھے کیچڑ میں لتھڑے ہوئے چیتھڑے، ٹوٹے پھوٹے ٹین ڈبے اور کاٹھ کباڑ کے انبار اور حسرت ویاس سے بھرپور مناظر نہ چھوڑ جائے۔
عالمی جنگوں اور نائن الیون جیسے واقعات کی طرح دنیا کی تاریخ اب کورونا سے پہلے، کورونا سے بعد اور کورونا کے سال جیسے خانوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ ہر دور میں تاریخ اس طرح کے بڑے واقعات کی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہے جو اسے بڑے پیمانے پر متاثر کرجاتے ہیں۔ چین نے بڑی حدتک اس دیو کو قابو کر لیا ہے اور اب یورپ، ایران امریکا، کینیڈا، پاکستان سب اس کے مقابلے میں اپنی بساط کے مطابق یا تو مصروف ہیں یا اس کا راستہ روکنے کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ کورونا نے پورے کرہ ارض کے معیارات کو بدل ڈالا ہے۔ دنیا کے مصروف ترین کاروباری مراکز پر تالے پڑ چکے ہیں۔ عوام کی بھیڑ والی سیر گاہوں میں اُلو بول رہے ہیں۔ بازاروں کی چہل پہل اور عبادت گاہوں کی رونقیں سب کچھ رک گیا ہے۔ لوگوں گھروں میں رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے اور اسی کو حملہ آور کا حملہ ناکام بنانے کا سب سے بڑا ہتھیار تسلیم کیا گیا ہے۔ اس طرح اس جنگ کا پہلا سپاہی اور پہلا جرنیل ہر وہ عام شخص ہے جو اس عفریت سے بچنا چاہتا ہے۔ گویا کہ یہ ایک ایسی انوکھی جنگ ہے جس کا پہلا سپاہی عام انسان ہے اور اس جنگ کو لڑنے کے لیے گھر سے نکلنے کی نہیں گھر کے اندر رہنے کی ضرورت ہے۔ اسی کو موجودہ حالات میں ’’سیلف آئسولیشن‘‘ کہا جا رہا ہے۔ ایک فرد جس قدر غیر ضروری نقل وحرکت ترک کرکے گا اور گھر میں رضاکارانہ طور پر نظر بند اور مقید ہو کر رہے گا وہ نہ صرف خود محفو ظ رہے بلکہ عزیز واقارب کو بھی محفوظ رکھے گا۔
حال ہی میں چین سے آنے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک افسوسناک حقیقت کی جانب یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے کہ ہمارے لوگ ابھی تک کورونا کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔ ایک حکومتی ذمے دار کا یہ مشاہدہ اس تلخ حقیقت کا مظہر ہے کہ ہمارے لوگ پوری طرح خطرے کا ادراک نہیں کر رہے۔ خطرہ اگر تصوراتی ہوتا تو کوئی بات نہیں تھی مگر خطرہ ایک حقیقت ہے۔ یہ وبا جب چین میں پھوٹ پڑی تھی تو امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اس کو ٹھٹھے مذاق کے لیے استعمال کیا تھا۔ یہاں تک وہ اسے ’’چینی وائرس‘‘ کہہ کر چین کا مذاق اُڑاتے رہے اب جب یہ وبا چین کی حدود سے نکل کر پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے تو ٹرمپ کو بھی خطرے کا احساس ہوگیا اور انہوں نے اسے ایک وبا تسلیم کرلیا ہے۔ اٹلی میں انسانی نقصان نے چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چین اس وباء کا سامنا کر رہا تھا تو بہت سے ملکوں کی طرح اٹلی کے عوام بھی اسے بہت دور کا معاملہ سمجھ کر لاپروا اپنے ’’اطالوی حسن‘‘ اٹالین بیوٹی کے سحر میں گم حال مست مال مست کی تصویر بنے رہے یہاں تک خطرہ دروازے پر دستک سے بیٹھا اور پھر یکایک اندر بھی داخل ہوگیا مگر عوام کی لاپروائی برقرار رہی۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اس طرح کورونا کا وائرس انسانیت کو درپیش حقیقی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کی اولیں ذمے داری ایک عام فرد کی ہے۔
سندھ جہاں اس وقت کورونا کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں، کے مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نے بھی کہا کہ عوام کے تعاون کے بغیر حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ عوام کا سب سے بڑا تعاون یہی ہے کہ غیر ضروری نقل وحرکت ختم کر دی جائے۔ خوف وہراس کا شکار اور حواس باختہ ہوئے بغیر خود کو گھروں تک محدودکرنا اس جنگ میں فتح کے دروازے کی کنجی ہے۔ ہم یہ کنجیاں ٹونے ٹوٹکوں، سینی ٹائزر، ماسک اور دوائوں اور اسپرے میں تلاش کر رہے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی اور کی تیار کردہ ہیں اور وائرس کے مقابلے کی ان کی صلاحیت کی کوئی ضمانت ہمارے پاس موجود نہیں۔ اس جنگ کی جیت کا حقیقی اور مفت نسخہ ہر شخص اپنی جیب میں لیے پھرتا ہے۔ اس نسخے کا نام ’’سیلف آئسولیشن‘‘ ہے۔ اپنی عادات میں محدود مدت کے لیے تبدیلی کا معاملہ ہے۔ اس ماحول میں ٹارزن بننا حقیقت میں بہادری نہیں جنگ میں شکست کا اعلان ہے۔