دہلی کے تشدد زدہ علاقے میں اقلیتی تحقیقاتی کمیشن متحرک

96

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں دارالحکومت کے فسادات کا نشانہ بننے والے علاقوں میں نقصانات اور تفصیلات کو ریکارڈ پر لانے کے لیے تشکیل دی گئی دہلی اقلیتی کمیشن کی 10 ارکان پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی نے شمال مشرقی ضلع کے تشدد زدہ علاقوں میں اپنا کام شروع کردیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق کمیٹی کی صدارت عدالت عظمیٰ کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ایم آر شمشاد کررہے ہیں جبکہ 30 رضاکار ان کی مدد کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ کمیٹی پرتشدد واقعات کے دوران جان و مال کے نقصان کے حقیقی اعداد شمار سرکاری دستاویزات میں درج کرے گی۔ اس حوالے سے رضاکاروں نے متاثرین کے گھر، دکانوں اور کیمپوں میں دورے شروع کردیے ہیں، جہاں تفصیلات معلوم کرنے کے بعد متاثرین کو فارم کی رسید بھی دی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن پورے معاملے پر نظر رکھ کر ان متاثرین کو بعد میں معاوضہ و انصاف دلوائے گا جن کے فارم افسران کی جانب سے دانستہ یا غیر دانستہ نہیں بھرے گئے یا جن کی شکایات پولیس نے تھانے میں درج نہیں کیں۔ کمیشن کی تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان متاثرین، پولیس اور مقامی انتظامیہ سے مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ تشدد کے حقائق، اس کے ذمے داروں اور فسادات کے بعد کے حالات کا پوری طرح احاطہ کیا جا سکے۔ کمیشن نے مصطفی آباد عید گاہ کیمپ میں بھی ایک ہیلپ ڈیسک قائم کیا ہے جہاں متاثرین آکر اپنی شکایات درج کراسکتے ہیں، مدد طلب کر سکتے ہیں یا فارم بھر سکتے ہیں۔ کمیشن نے پورے متاثرہ علاقے میں 40 نوٹس بورڈ بھی آویزاں کیے ہیں جس میں حقائق تلاش کرنے والی کمیٹی کے اغراض و مقاصد اور ٹیلی فون نمبرز دیے گئے ہیں۔