لڑکی نے عشق میں لڑائی کے بعد زہریلی دوا پی لی ، ایس ایس پی سینٹر ل عارف اسلم راو¿

427

کراچی (اسٹاف رپورٹر) محبت میں لڑائی نے لڑکی کی جان لے لی، شہر قائد میں لڑکی کی موت کے افسوس ناک واقعے کا معمہ حل ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق 26 فروری کو عباسی شہید اسپتال سے لڑکی کی لاوارث لاش ملنے کا معاملہ حل ہو گیا، ماڈل تھانہ لیاقت آباد کے ایس ایچ او لیاقت حیات نے 48 گھنٹوں کے اندر لڑکی کی موت کے اندھے کیس کا معمہ حل کر لیا۔

ایس ایس پی سینٹرل عارف اسلم را و¿کا کہنا تھا کہ معاملہ عشق میں لڑائی کے بعد خود کشی کا نکلا، عشق میں مبتلا مائرہ اور عدنان شادی کرنا چاہتے تھے، 26 فروری کو مائرہ اپنی دوست رمشہ کے ہم راہ کوہ نور گرانڈ عزیز آباد پہنچی، جہاں مائرہ اور عدنان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس پر مائرہ نے زہریلی دوا پی لی۔پولیس کے مطابق عدنان مائرہ کو لے کر عباسی شہید اسپتال لے گیا، حمزہ اور حسیب نے بھی عدنان کی مدد کی، تاہم ڈاکٹروں کے جواب دینے پر مائرہ کو ٹرائمکس اسپتال جوہر آباد لے جایا گیا،جہاں ڈاکٹروں نے مائرہ کو مردہ قرار دیا، جس پر تینوں لڑکے لاش چھوڑ کر فرار ہو گئے،

بعد ازاں پولیس نے لڑکی کی لاش کو دوبارہ عباسی شہید منتقل کیا۔ایس ایس پی نے بتایا کہ عدنان نے اسپتال میں اپنا موبائل فون اور پتا بھی غلط لکھوایا تھا، پولیس عدنان کے پتے پر پہنچی تو وہاں مسجد تھی، عدنان اپنے دوستوں کی سمیں استعمال کر رہا تھا، لڑکی کے اہل خانہ کو مطلع کیا گیا تو انھوں نے مقدمہ درج کروانے سے انکار کر دیا۔دریں اثنا، عزیز آباد پولیس نے سرکار کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ درج کر کے مائرہ کی دوست رمشہ اور حمزہ کو حراست میں لے لیا ہے جب کہ عدنان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔