بھارتی پولیس کی درندگی،مسلم خواتین کے نازک اعضاء پر تشدد

133

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک ) احتجاجی مظاہروں کے دوران دہلی پولیس کے اہلکاروں کا مسلم طالبات کے نازک اعضاء پر تشدد، پچاس سے زائد خواتین کو پوشیدہ اعضاء پرزخم آئے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں متنازع شہریت بل کیخلاف جاری مسلم کمیونٹی کے احتجاج میں بھارتی پولیس کی ستم گری کی ایک اور داستان منظر عام پر آگئی ہے۔احتجاجی مظاہرے میں شریک خواتین طالبات نے بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ پر امن احتجاجی مظاہرہ کرنا چا ہ رہے تھے۔ بھارتی پولیس اہلکاروں کے گروپ نے ایک منصوبہ بندی کے تحت ہم پر حملہ کردیا، ان کا کہنا ہے کہ بھارتی پولیس اہلکاروں نے ہمیں اسٹیل کے ڈنڈوں ، جوتوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور ہمارے حجاب کو اتار کر گالیاں دیتے رہے۔ساتھ ہی ساتھ حب الوطنی پر بھی انگلی اٹھائی گئی۔ بھارتی مظالم کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے طالبات کے نازک اعضاء پر ہٹ کیا۔ 20 سے زائد خواتین نے اس ظلم کے خلاف آواز اْٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ تمام خواتین کو 50 سے زائد زخم آئے ہیں۔ بھارتی پولیس اہلکاروں کا چہرہ بے نقاب کرنے کے بعد ڈاکٹرز نے بھی خواتین کو نازک اعضاء پر زخم آنے کی تصدیق کردی ہے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواتین کی جانب سے ان زخموں کے میڈیکل سرٹیفکیٹ بطور ثبوت پیش کیے گئے۔ جبکہ احتجاجی مظاہروں میں پولیس حملے میں زخمی ہونے والے مردوں نے تصاویر میڈیا کے سامنے پیش کر دیں۔ خواتین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے اعلیٰ عہدے دار نے مجھے کھلے عام دھمکی دی اور کہا کہ ’’تمہیں میں بعد میں دیکھ لو گا‘‘۔