فارنزک سائنس اور اسکے تحت سنگین جرائم کی بیخ کنی کے لیے سندھ بھرمیں کرائم سین یونٹس تشکیل دیئے جائیں ،

144

کراچی (اسٹاف رپورٹر)آئی جی سندھ ڈاکٹر سیدکلیم امام کی زیر صدارت فارنزک سائنس اور اسکے تحت تحقیقات کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے سینٹرل پولیس آفس کراچی میں اعلیٰ سطٰحی ویڈیولنک اجلاس ہوا۔جس میں اجلاس کے عنوان پرآئی جی سندھ نے بعداز بریفنگ ناصرف مزید ضروری ہدایات دیں بلکہ اہم فیصلہ بھی کیا۔اے آئی جی فارنزک ڈویژن سندھ مقدس حیدر نے کرائم سین اور کرائم سین کو محفوظ بنانا اور اکٹھا شواہد میں فارنزک سائنس کے استعمال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

جس میں انہوں نے کرائم سین، کرائم سین یونٹ کی ورکنگ،تفتیشی افسران، پہلے ریسپانڈر کی ذمہ داریوں،قانونی مضمرات وغیرہ سمیت کرائم سین یونٹ کے ای پورٹل اور کارکردگی پر خصوصی حوالہ جات پر مشتمل تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ کرائم سین یونٹ دہشت گردی، قتل،اغواءبرائے تاوان، ڈکیتی،بینک رابری،جنسی زیادتی جیسے مقدمات یا پھر ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی جانب سے کسی بھی ترجیحی کیس پر مصروف عمل ہوجاتا ہے ۔

آئی جی سندھ نے اس موقع پر ایک بڑا اقدام اُٹھاتے ہوئے فیصلہ کیا اورہدایات دیں کہ کراچی میں کامیابی کے بعد سندھ بھرکے دیگرتمام اضلاع میں کرائم سین یونٹس باقاعدہ تشکیل دیئے جائیں اور اس حوالے سے جملہ ضروری قابل عمل اقدامات پر مشتمل سفارشات و تجاویز جلد سے جلد برائے ملاحظہ ارسال کی جائیں۔انہوں نے مختلف نوعیت کے جرائم میں کرائم سین یونٹ کراچی کی بہترین اورعمدہ کارکردگی پراے آئی جی فارنزک اور انکی ٹیم کو شاباش دی اور سراہا۔انہوں نے کہا کہ کرائم سین یونٹ پر ضروری پولیس کاروائی کے دوران صحافی حضرات اور شہریوں کا تعاون قابلِ ستائش اور لائق تعریف ہونے کے ساتھ ساتھ جرائم کےخلاف پولیس کے عزم پر عوام کے اعتماد کا بین ثبوت بھی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ جرائم کی تفتیش،تحقیقات، چھان بین میں کرائم سین/جائے وقوعہ کو محفوظ بنانا،شواہد کو اکٹھا کرنا اور بعداذاں انکی روشنی میں فارنزک سائنس کے استعمال سے آگے بڑھنا اور ملزم تک پہنچنا انتہائی اہم عمل ہے ۔آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صحافی حضرات کے لیئے کرائم سین اور اسے محفوظ بنانیکے لیئے سندھ پولیس جلد ہی ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کرنے جارہی ہے ۔اجلاس میں تمام ایڈیشنل آئی جیز،ڈی آئی جیز ودیگر سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔