عدالت عظمیٰ نے سرکلر ریلوے کے لیے 6ماہ کا وقت دیدیا، متبادل دینے کی ہدایت

231

کراچی(اسٹاف رپورٹر)عدالت عظمیٰ نے کراچی سرکلر ریلوے چلانے کے لیے 6ماہ کا وقت دیتے ہوئے متاثرین کو متبادل جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا حکم امتناع ختم کرتے ہوئے ریلوے اراضی سے فوری قبضہ خالی کرانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں سے مددلینے کا حکم جاری کردیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے خبردار کیا ہے کہ 6 ماہ میں کراچی سرکلر ریلوے نہیں چلائی تو وزیراعظم اور وزیراعلی سندھ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔عدالت عظمیٰکراچی رجسٹری میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ عدالت میں حاضر ہوئے اور سرکلر ریلوے بحالی پلان عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سرکلر ریلوے پر بہت پیش رفت ہوئی ہے، سرکلر ریلوے کے تمام اسٹیشنوں کو بستیوں سے منسلک کر دیا جائے گا،ہم نے انتظام سندھ حکومت سے واپس لے لیا ہے ۔سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ آپ کی ہدایت پر روزانہ کی بنیاد پر کام شروع کردیا۔ چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کیا کر رہے تھے، چاہیں تو آپ کو ابھی جیل بھیج دیں، کیا افسری کر رہے ہیں، یہ وژن ہے آپ کا، آپ اہل ہی نہیں، ہمیں معلوم ہے آپ سرکلر ریلوینہیں چلائیں گے ، روزانہ خواب دیکھا رہے ہیں، آپ کام نہیں کریں گے ، 24 گیٹ پر قبضے کا بتایا جا رہا ہے بہانے بنائے جا رہے ہیں، 24 گیٹ کے بعد نیا بہانہ آجائے گا، جب یہ قبضے ہو رہے تھے تو کیا کر رہے تھے، اگلی سماعت پر آپ نیا نقشہ لے آئیں گے۔سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ہم سرکلر ریلوے چلا دیں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بچوں کی طرح کام چل رہے ہیں، اپنے کمروں میں آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں، نہیں کریں گے، روزانہ نئے بہانے لے آتے ہیں، کراچی کی حیثیت کا بھی آپ کو معلوم نہیں، آپ کو کراچی کے لوگوں کی پریشانیوں کا اندازہ ہی نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت سو رہی ہے، کوئی سوچنے والا نہیں، سب تھوڑے تھوڑے دنوں میں موقف بدل کر آجاتے ہیں، زمین پر تو جگہ ہی نہیں بچی، سندھ حکومت نے بتایا تھا کہ یہ ایلیویٹیڈ (زمین سے اوپر) چلے گی، آپ لوگ چاہتے ہی نہیں، کہانیاں لکھ کر لے آتے ہیں، 72 سال میں اتنی قابلیت نہیں ہوئی، دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی، ہمیں بتا دیں کہیں سے الہ دین کا چراغ لے آتے ہیں۔سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ ہمارے پاس تو کوئی الہ دین کا چراغ نہیں۔تحریک انصاف کراچی کے صدر اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرفردوس شمیم نقوی عدالت میں پیش ہوئے اور سرکلر ریلوے کی بحالی میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران گھروں کو گرانے کی مخالفت کی۔چیف جسٹس نے ان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کیا مسئلہ ہے کون ہیں آپ ؟؟فردوس شمیم نقوی نے بتایا کہ میں پی ٹی آئی سے ہوں سرکلر ریلوے پر بات کرنے آیا ہوں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تو آپ کے سیکرٹری یہاں موجود ہیں انہیں بتائیں کیا مسئلہ ہے ،فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ میں اپوزیشن لیڈر ہوں یہاں عوامی مسئلے پر بات کرنے آیا ہوں ،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ اسمبلی نہیں ہے آپ یہاں بات نہیں کرسکتے، آپ تو حکومت میں ہیں ۔ فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ ہم یہاں سندھ میں اپوزیشن میں ہیں ۔ جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ یہ تو وفاقی سبجیکٹ ہے ،آپ اپنی حکومت کے خلاف آگئے ، عدالت نے فردوس شمیم نقوی کو بولنے سے روک دیا۔جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آپ اپنی حکومت کو کیوں نہیں بتاتے ہمیں کیوں بتارہے ہیں ؟ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آپ کی حکومت کا مجموعی طور پر یہی حال ہے عدالت میں کچھ باہر کچھ ، ہم اس صورتحال سے پریشان ہیں، بیوروکریٹس سے حکومت کی بن نہیں رہی اور حکومتی نمائندہ یہاں خود حکومت کے خلاف کھڑا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ان قبضوں میں پولیس، ریلوے، حکومت، اداروں سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، ایک قبضہ خالی کرانے جائیں گے تو وزیراعلیٰ کی 10 سفارش آجائیں گی، پی ٹی آئی والے یہاں کھڑے ہیں، باقی بھی آجائیں گے، آپ چاہتے ہیں کراچی جیسا ہے ویسے ہی رکھا جائے، غیر قانونی زمین خریدنے والوں کو بھی زمین خریدنے سے قبل سوچنا چاہیے، 5 لاکھ کی چیز 25 ہزار میں ملتی ہے تو کوئی وجہ ہوتی ہے، ایک کروڑ کی زمین 20 لاکھ میں لیتے ہوئے کیوں نہیں سوچتے، اب تو وقت گزر گیا، یہ سارے قبضے ختم ہوں گے، جس نے غیر قانونی زمین لی اسے خالی کرانا ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اورنج لائن میں بھی یہی دیکھا ،سبسڈی نہیں ہوگی تو کیا ہوگا ؟، قائداعظم بھی سوچ رہے ہوں گے ملک میں کیا ہورہا ہے ، جتنے اسٹیٹ ایجنٹس ہیں سب ملے ہوئے ہیں، ریلوے اور صوبائی حکومت والے بھی ملے ہوئے ہیں۔عدالت نے سرکلر ریلوے منصوبے پر فوری کام شروع کرنے اور تمام کارروائی 5 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے چین سے مشاورت کے لیے 2 ہفتوں کی مہلت دی۔عدالت عظمیٰنے کہا کہ سرکلر ریلوے ڈبل ٹریک پر فوری کام شروع کیا جائے، سندھ حکومت ریلوے کو مکمل سہولیات فراہم کرے، منصوبے کی منظوری اور دیگر امور کو فوری حل کیا جائے، سیکرٹری ریلوے بھی سندھ حکومت سے تعاون کریں۔ عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی آمد سے قبل مظاہرین کی بڑی تعداد عدالت کے باہر پہنچی ۔ قبضہ مافیاز، چائنا کٹنگ، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین میں اسٹیل ملز ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے متاثرین،لائنز ایریا کے رہائشی، گلشن معمار میں، ڈسپینسری سینٹر اور لیاری کے علاقے سیفی لین میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف شہریوں احتجاج کیا، عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔