زہریلی گیس کا اخراج ہلاکتوں کی تعداد 14 ہوگئی تاہم تین روز گزرنے کے باوجود مقام کا سراغ لگایا جاسکا۔

108

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کیماڑی کے علاقے میں زہریلی گیس سے مزید 7 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 14 ہوگئی تاہم تین روز گزرنے کے باوجود اب تک گیس کے اخراج کے مقام کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کیماڑی میں زہریلی گیس پھیلنے کا معاملہ تشویش ناک صورت حال کرچکا ہے۔محکمہ صحت سندھ کے فوکل پرسن ڈاکٹر ظفر مہدی نے بتایا کہ زہریلی گیس کے باعث تین روز کے دوران اب تک 14 اموات رپورٹ ہوچکی ہیں اور 300 سے زائد متاثر ہیں۔ڈاکٹر ظفر مہدی نے بتایا کہ ضیا الدین اسپتال کیماڑی میں 9 افراد جاں بحق ہوئے، سول اسپتال میں 2، کتیانہ میمن اسپتال میں 2 اور برہانی اسپتال میں ایک موت رپورٹ ہوئی۔

ڈاکٹر ضیاالدین ہسپتال کے ترجمان عامر شہزاد نے بتایا کہ اب تک 250 افراد کو لایا جاچکا ہے جس میں زیادہ تر افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد واپس بھیج دیا گیا تاہم 5 افراد انتہائی نگہداشت یونٹ(آئی سی یو)میں زیر علاج ہیں جن کی حالت بہتر ہورہی ہے۔دوسری جانب جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ گزشتہ روزجناح ہسپتال میں 27 مریض لائے گئے ،ان سب کا تعلق کیماڑی سے تھا۔ان میں26 مریضوں کو ابتدائی طبی امداد دینے کے 3 سے 4 گھنٹوں بعد ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی تھی تاہم ایک شخص آئی سی یو میں زیر علاج ہے جس کی حالت تشویشناک ہے۔اسی حوالے سے پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی نے بتایاکہ 2 خواتین کو ڈاکٹر روتھ فاﺅسول ہسپتال لایا گیا تھا جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔

اس ضمن میں سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی(ایس ای پی اے)کے ڈائریکٹر جنرل نعیم مغل نے بتایا کہ ہمیں شبہ ہے کہ گیس کا اخراج تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ سے ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ ریلوے کالونی سے ملحقہ آئل اسٹوریج یارڈز ہیں جہاں پیٹرول سے بھرے جہاز ان لوڈ اور اسٹور کیے جاتے ہیں اور ٹینکس کی صفائی بھی یہیں کی جاتی ہے۔ڈی جی سیپا نے بتایا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)میں پٹرولیم کوک کا جہاز بھی موجود ہے جس کا کنٹینر کھولنے سے کافی مضر صحت گیسز خارج ہوتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کے پی ٹی کو ماحولیاتی خطرے کا باعث بننے والے جہازوں کی باقاعدہ اجازت لینی چاہیے، انہوں نے کہا کہ کے پی ٹی کا کمپلائنس لیول کافی خراب ہے۔نعیم مغل نے خبردار کیا کہ جس کی بھی غلفت ہوئی اس کے خلاف ماحولیاتی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ سیپا نے متاثرہ علاقے کا مکمل دورہ کیا اورکے پی ٹی آپریشنز کا بھی مشاہدہ کیا تھا۔ڈی جی سیپا کے مطابق مرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق ریلوے کالونی سے ہے۔انہوں نے کہاکہ کیماڑی اور متاثرہ علاقے کی فضا کے پی ٹی آپریشنز کے باعث آلودہ رہتی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں کاربن مونوآکسائیڈ اور ہائیڈروجن سلفائیڈ کی مقدار بھی معمول سے کہیں زیادہ پائی گئی۔انہوں نے کہاکہ کیماڑی اور اطراف کے علاقوں کے رہائشیوں کی قوت مدافعت بھی کم ہے اور یہاں کے رہائشی دمہ اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن نے اس ضمن میں بتایا کہ ہم اس واقعے کی ممکنہ وجہ تلاش کرنے کے حوالے سے اب بھی لاعلم ہیں۔

دوسری جانب گزشتہ روز وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد وزیراعلی ہاﺅس میں ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی اور رہائشیوں کے انخلا کے احکامات دیے تھے۔اجلاس میں کمشنر کراچی افتخار شلوانی نے بتایا تھا کہ ایک جہاز سویا بین یا اس قسم کی کوئی آف لوڈ کررہا تھا جو ممکنہ طور پر واقعے کی وجہ ہوسکتی ہے اور جب آف لوڈنگ روک دی گئی تو بو بھی ختم ہوگئی۔جس پر وزیراعلی سندھ نے اس مخصوص کنٹینر کو چیک کرنے کی ہدایت کی جس پر کمشنر کراچی نے بتایا کہ جہاز سے آف لوڈنگ روک دی گئی ہے۔اس ضمن میںوزیر بحری امور علی حیدر زیدی نے بتایا کہ واقعے کی وجہ سویابین کے جہاز کو قرار دینے کی رپورٹ بالکل بکواس ہے کیوں کہ جہاز اور عملہ بالکل ٹھیک ہے۔انہوں نے کہاکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ بو صرف رات کو محسوس ہوتی ہے، انہوں نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ پورٹ پر کچھ نہیں ہوا۔

اس سلسلے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کی سپورٹ کررہی اور اس سلسلے میں وزیراعلی سندھ نے بھی ہسپتالوں کا دورہ کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں پورٹ کی سرگرمیاں بہت زیادہ ہیں اور پورٹ کو شہری علاقوں تک پھیل جانے سے روکنے اور کیمیکل فیکٹریوں کو شہر سے باہر منتقل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔ناصر شاہ نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت تمام ادارے کام کررہے ہیں۔گیس کے اخراج سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیرنے کہاکہ گیس کے اخراج کے بارے میں مختلف رپورٹس زیر گردش ہیں لیکن کچھ وقت دیں اور جب حتمی نتائج سامنے آجائیں گے تو بہتر طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

اس ضمن میں کمشنر کراچی نے کہا کہ واقعہ کراچی کے صرف ایک علاقے تک محدود ہے اس لیے اس قسم کی رپورٹس نہ پھیلائی جائیں کہ جس سے شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل جائے۔افتخار شلوانی نے کہاکہ متاثرہ اور مرنے والوں کے نمونے لیے گئے ہیں جن کی حتمی رپورٹس آنے تک موت کی وجوہات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ادھر کیماڑی میں علاقہ مکینوں نے گیس پھیلنے کے واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔ احتجاج کے باعث ٹریفک جام ہوگیا اور ٹرکوں کنٹینروں کی قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) حکام کے خلاف نعرے بازی کی۔پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او)، شیل، ٹوٹل پارکو اور ہیسکول نے عملے کی حفاظت اور صحت کے پیش نظر کیماڑی میں اپنے آئل اسٹوریج ٹرمینلز عارضی طور پر بند کردیے۔