دہلی پولیس آپے سے باہر،طلبہ کو تشدد کا نشانہ بناڈالا

222

نئی دہلی :بھارت میں دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی مسلم طالبہ کا حجاب اتار کر تشدد کا نشانہ بنایا۔

بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف گزشتہ کئی مہینوں سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، متنازع  قانون کے خلاف  دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات بھی مودی سرکار کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی مسلم طالبات  نے دہلی پولیس کی بربریت اور سفاکیت بتاتے ہوئے کہا کہ  دہلی پولیس  نے زبردستی اُن کے حجاب اُتار  کر جسم کے حساس اعضاء پر  تشدد کیا۔

مسلم طالبعلموں نے کہا کہ  ہم پر دہلی پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور پھر   بعد میں ا ِسٹیل کی راڈ سے کمر پر مارا اور پھر لاتیں بھی ماری جبکہ طالبات نے کہا کہ ہماری دیگر ساتھی طالبات   پولیس کے تشدد کے باعث  زخمی ہونے کی وجہ سے اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

یاد رہے کہ متنازع شہریت قانون کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ متنازع شہریت قانون کے خلاف کئی ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں  جبکہ دہلی  کے شاہین  باغ میں بھی خواتین کا احتجاج جاری ہے ۔