فلسطین دشمن ،ٹرمپ امن معاہدے پر اقوام متحدہ نے نرمی دکھادی

252

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقی وسطیٰ امن معاہدے کے خلاف اقوام متحدہ کے نئے مسودے میں اب پہلے جیسے سخت الفاظ کا استعمال نہیں۔ نئے مسودے سے اس معاہدے کے مصنف، امریکہ کا نام بھی ہذف کردیا گیا ہے۔

 فرانس کے معروف نشریاتی ادارے AFP کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے پرانے مسودے میں ڈونلڈٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ہوئے مشرقی وسطیٰ امن معاہدے کے خلاف جن سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا، اب نئے جاری کردہ مسودے میں نرمی برتی گئی ہے۔ امریکہ کا، بحیثیت معاہدے کے مصنف، نام بھی خارج کردیا گیا ہے۔

فلسطینی قرار داد کا ابتدائی مسودہ، جو گزشتہ دنوں تیونس اور انڈونیشیا نے پیش کیا تھا، میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ امریکہ کا مشرقی وسطیٰ امن معاہدہ، فلسطین تنازعے کے حوالے سے، بین الاقوامی قانون اور عالمی سطح پر توثیق شدہ شرائط کی خلاف ورزی ہے جبکہ نئے جاری کردہ مسودے میں ‘خلا ف ورزی’  لفظ کو تبدیل کردیا گیا ہے اور لکھا ہے کہ امریکہ، فلسطین تنازعے کے حوالے سے، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی سطح پر توثیق شدہ شرائط سے علیحدہ ہوگیا ہے۔

نئے مسودے میں مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ‘جلد سے جلد ممکنہ تاریخ’ پر بین الاقوامی کانفرنس کرنے کے مطالبے کو بھی ہذف کردیا گیا ہے۔ اس کی جگہ 2008 میں کیے گئے اس حوالے سے اقوام متحدہ کے اعلان کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ یہ تبدیلیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب ٹرمپ امن معاہدے پراقوام متحدہ کے رد عمل کے حوالے سے متعدد ممالک سفارتی دباؤ کا شکار ہیں۔

رواں ہفتے کے شروع میں تیونس کے صدر قیس سعید نے اقوام متحدہ میں اپنے سفیر منصف باتی کواس بنا پر برطرف کردیا تھا کہ ان کے فلسطین کی حمایت کرنے پر تیونس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔