کراچی کے مسائل پر عدالت عظمیٰ برہم

416

محمد اکرم خالد
گزشتہ روز عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے کراچی رجسٹری میں کراچی شہر میں پارکوں پر قبضوں رہائشی پلاٹس کے تجارتی استعمال اور تجاوزات کے ساتھ ساتھ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان سمیت مختلف سماجی کارکنان کی درخواستوں پر سماعت کی۔ کراچی پاکستان کا معاشی حب سمجھا جاتا ہے مگر اس شہر کو ماضی سے لے کر اب تک محرومیوں کا سامنا رہا ہے۔ کراچی ان دنوں عدالت عظمیٰ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے محترم چیف جسٹس گلزار احمد نے ریماکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی شہر کو تباہ کر دیا گیا ہے، قبرستان تک غائب کر دیے گئے ہیں۔ کوئی دو آراء نہیں کہ اس شہر کو سیاستدانوں سے لے کر ہر طرح کے مافیا نے یرغمال بنایا ہوا ہے پانی، بجلی، گیس کے مسائل کو ایک سازش کے تحت سیاست کی نذر کیا جارہا ہے، بلڈر مافیا غیر قانونی تعمیرات سے ارب پتی بن گئے ہیں۔ منشیات گٹکا مافیا نوجوان نسل کی تباکاری میں مصروف ہے، پابندی کے باوجود گلی محلوں میں گٹکے کی فروخت جاری ہے جس کو پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔
چیف جسٹس جس جرأت کا مظاہر کر رہے ہیں یقینا وہ قابل تعریف ہے مگر کیا یہ جرأت مندانہ اقدامات شہر کراچی کے گمبھیر مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکیں گے۔ یقینا کراچی کے مسائل کو ایک سازش کے تحت بڑھایا جارہا ہے جس میں بلڈر مافیا کا اہم کردار کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کراچی کی کچی آبادیوں میں سستے داموں بڑے بڑے پلاٹ خرید کر ان پر اونچی اونچی عمارتوں کی تعمیر کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کنٹونمنٹ بورڈ اور سندھ حکومت سمیت علاقہ پولیس تھانوں کی بھاری رشوت کے بغیر ناممکن ہے۔ غیر قانونی وناقص میٹریل سے تیار کردہ یہ اونچی اونچی عمارتیں ناصرف انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہیں بلکہ ان غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے کراچی پانی، بجلی، گیس، سیوریج کے مسائل کا شکار رہا ہے۔ پچاس گز کے پلاٹ جس میں دس افراد کے رہنے کی گنجائش بنتی ہے جہاں پانی، بجلی، گیس کے ایک ایک کنکشن کی گنجائش موجود ہے وہاں غیر قانونی آٹھ منزل تعمیر کی بنیادی ضروریات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے، جن علاقوں میں ہزاروں افراد کی گنجائش ہے وہاں بلڈرز مافیا نے لاکھوں افراد کو بسانے کی کوشش کی جو مسائل کا سبب بن رہی ہے کراچی شہر کے وہ علاقے جو ڈیفنس کلفٹن سے منسلک ہیں جن کا ذکر چیف جسٹس نے بھی سماعت کے دوران کیا جن میں گزری، پی این ٹی کالونی، پنجاب کالونی، دہلی کالونی شامل ہیں، یہ وہ علاقے ہیں جہاں بلڈر مافیا، کراچی بلڈنگ کنٹرو ل اتھارٹی، کنٹونمنٹ بورڈ اور علاقہ پولیس کی مدد سے بھاری رشوت کی بنیاد پر اس علاقے کو مسائل کا گڑھ بنادیا گیا ہے۔ مگر اس مافیا کے خلاف کوئی کاروائی کرنے کی جرأت نہیں رکھتا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں بھی اس مافیا کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا گیا مگر عدالت عظمیٰ کے احکامات کی گلی محلوں میں دھجیاں اُڑادی گئی جس کی مکمل ذمے دار سندھ حکومت اور محکمہ پولیس ہیں۔
اس وقت موجود چیف جسٹس گلزار احمد جس دبنگ انداز سے کراچی کی بہتری میں احکامات جاری کر رہے ہیں وہ یقینا قابل ستائش ہے مگر کوئی دو رائے نہیں کہ ان احکامات کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔ اس وقت جہاں عدالت عظمیٰ کا بینچ کراچی کے مسائل پر سماعت کر رہا ہے ایسے وقت میں بھی کراچی کے وہ علاقے جن کا سماعت کے دوران ذکر کیا جارہا ہے۔ وہاں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے، جس سے اس بات کا بخوبی انداز لگا یاجاسکتا ہے کہ سندھ حکومت محکمہ پولیس کراچی بلڈنگ کنڑول اتھارٹی، کنٹونمنٹ بورڈ، وزیر بلدیات، میئر کراچی سمیت اس شہر کے ادارے کتنے سنجیدہ ہیں۔
اسی طرح ریلوے کی زمینوں پر منشیات کے اڈے سندھ حکومت با اثر اشرافیہ میئر کراچی اور پولیس کے اعلیٰ افسران کی سرپرستی کے بغیر کسی صورت قائم نہیں رہ سکتے ہر ایک اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے مال بنا رہا ہے اور اس شہر کے مسائل میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ گندا ہے پر دھندا ہے، کا گیت گا کر اس ملک اس شہر کو اُجاڑنے کی سازش میں مصروف ہے ہر سیاسی جماعت کے گندے انڈے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے بیرون ملک اپنے ناجائز اثاثے بنانے میں مصروف ہیں، یہاں میاں صاحب یا زرداری صاحب نہیں بلکہ تمام مفاد پرست غربت کے ذمے دار سیاستدان قومی سر کاری اداروں میں بیٹھے بھیریے اس حمام میں ننگے ہیں۔
یقینا چیف جسٹس گلزار احمد کا کراچی بحالی میشن قابل تحسین ہے مگر کیا ان کے احکامات کراچی کے مسائل کو حل کی جانب گامزن کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکیں گے؟ کیا کراچی شہر کے بڑھتے مسائل کو قابو کیا جاسکے گا؟ کیا غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بند ہوسکے گا؟ کیا سر کلر ریلوے بحال ہوسکے گی؟ کیا اس شہر کے مسائل میں اضافے کا سبب بنے والے بلڈر مافیا اور ان کے سہولت کار اداروں کے خلاف کاروائی ہوسکے گی؟ کیا اس شہر میں پانی، بجلی، گیس، سیوریج کے مسائل میں اضافہ کرنے والوں کو سزائیں ہوسکیں گی؟ یہ سوالات ہیں جن کے جوابات کی یہ قوم برسوں سے منتظر ہے۔ یقینا عدالت عظمیٰ اپنے احکامات کا مکمل دفاع کرتے ہوئے اس شہر کی خوشحالی میں کیے گئے اپنے فیصلوں کی مکمل پاسداری کا حق محفوظ رکھتے ہوئے بلڈر مافیا اور ان کے سہولت کار اداروں کے خلاف موثر اقدامات اُٹھائے گی تاکہ یہ شہر کراچی مسائل کے دلدل سے باہر نکل کر پاکستان کی معیشت میں مزید بہتر اہم کردار ادار کر سکے۔