جزیرہ عرب کے القاعدہ سربراہ کو مارنے کی امریکی تصدیق

321
جزیرۂ عرب میں القاعدہ کے سربراہ قاسم ریمی کی فائل فوٹو

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جزیرئہ عرب کے لیے القاعدہ کے سربراہ قاسم ریمی کی یمن میں فوجی آپریشن کے دوران ہلاکت کی تصدیق کردی۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ریمی کی ہلاکت سے امریکا،اس کے اتحادی اور دنیا دہشت گردی سے محفوظ ہوجائے گی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ریمی کی قیادت میں القاعدہ نے یمنی شہریوں پر بے رحمی سے تشدد کیا اور عوام کو امریکی فوج کے خلاف حملوں پر اکسایا۔ ریمی کی ہلاکت القاعدہ کو عالمی سطح اور خاص طور پر جزیرہ نما عرب میں مزید کمزور کر دے گی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ نے قاسم ریمی کی ہلاکت کا دعویٰ تو کردیا،تاہم آپریشن کی تاریخ نہیں بتائی۔ عرب خبررساں اداروں العربیہ اور ٹی وی چینل الحدث کے مطابق قاسم ریمی کو 31 جنوری کو یمن کے شہرمآرب کے نواحی علاقے وادعی عبیدہ میں ایک مکان پر میزائل حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ ریمی اور القاعدہ جنگجوئوں نے کچھ ہی روز قبل مکان کو کرائے پر حاصل کیا تھا۔ دوسری جانب یمنی حکام نے امریکی صدر کے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ واضح رہے کہ کمانڈر قاسم ریمی کو 2015ء میں القاعدہ جزیرہ نما عرب کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ القاعدہ ’اے کیو اے پی‘ نے گزشتہ برس دسمبر میں فلوریڈا کے بحری اڈے پر ہونے والے حملے کی ذمے داری قبول کی تھی،جس میں ایک سعودی افسر نے 3 فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ امریکا اے کیو اے پی کو اسامہ بن لادن کے القاعدہ نیٹ ورک کی خطرناک شاخوں میں سے ایک قرار دیتا ہے۔اے کیو اے پی کا مقصد جزیرہ نما عرب میں مغربی اثررسوخ ختم کرنا اور امریکا کی حمایت یافتہ حکومتوں کو گرانا ہے۔