کشمیری، تکمیل پاکستان کے لیے لڑ رہے ہیں اور پاکستان؟

580

جاوید الرحمن ترابی
مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کو ۵؍ اگست۲۰۱۹ء کو بھارت نے بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کو توڑ دیا ہے بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰؍ اور ۳۵؍ اے کے ذریعے ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن حاصل تھی ایک ایکٹ کے ذریعے ریاست جموںو کشمیر کو اپنے گورنر کے ایک خط پر دائمی قبضہ کر لیا گیا کشمیریوں نے اس ظلم کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ بھارت نے لوگوں سزا دینے کے لیے کرفیوں لگا دیا۔ یہ دن اور آج کا دن جموں و کشمیر میں محاصرے کو 177 دن ہو گئے کشمیری مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ اپنے شہیدوں کو پاکستان کے سرسبز ہلالی جھنڈے میں لپیٹ کر دفن کر رہے ہیں۔ جگہ جگہ کریک ڈائون اور بستیوں میں محاصروںکے ذریعے سفاک بھارتی فوج اور آر ایس ایس کے غنڈوں کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا احتجاج کرنے والے نوجوانوںکو ۹ ؍لاکھ بھارتی سفاک فوج شہید کررہی ہے۔ کیا دنیا میں کہیں بھی ایسا ہوا ہے، جو مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے، جو ہٹلر کی جانشین دہشت گرد مودی حکومت جوکر رہی ہے؟ مسلسل کرفیو سے زندگی اجیرن بنا دی گئی۔ کشمیری کسی طرح بھی بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ کشمیری پاکستان کی محبت میں اپنا آج پاکستان کے کل کے لیے قربان کر رہے ہیں کشمیری ہند کے متفقہ تقسیم کے فارمولے کے تحت پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کی تکمیل چاہتے ہیں۔ ممتاز کشمیری رہنماء پروفیسر الیف الدین ترابی نے کشمیر پر آئینی مقدمہ لکھا ہے‘ قانون کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے۔
تاریخ کشمیر کے واقعات دیکھنے سے معلوم ہو تا کہ ہندو حکام تقسیم ہند کے بعد اسپین گئے تھے وہاں انہوں حالات کا جائزہ لیا کہ جس ملک پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی تھی وہاں سے مسلمانوں کو کس طرح بے دخل کیا گیا تھا۔ اس پر عمل کرتے ہوئے بھارتی حکام نے کشمیریوں کو جموں کے علاقے سے ایک جگہ جمع کیا۔ لاتعداد کشمیری مسلمانوںکو بسوں میں سوار کیا اور کہا کہ تمہیں پاکستان کی سرحد تک پہنچا دیتے ہیں۔ سادہ لو کشمیری بسوں میں سوار ہوئے کہ پاکستان کی سرحد پہنچ کر آگے پاکستان میں داخل ہو جائیں گے۔ مگر سرحد سے پہلے کہ ایک جگہ انہیں بسوں سے اُتار کر مولی گاجر کی طرح کاٹ دیا۔ ان کی لاشیں ندی میں بہا دیں۔ کشمیر کے ۵ لاکھ مسلمانوں کو راجا کے دور میںشہید کیا گیا۔ ۱۹۴۷ء سے لے کر آج تک ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری مسلمان شہید کیے گئے۔ اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بھارت کے ۲۵ کروڑ مسلمانوں کوآر ایس ایس کے سربراہ نے دھمکی دی ہے کہ ۲۰۲۰ء میں مسلمانوں کو بھارت سے نکال دیا جائے گا یہ وہ ہندو مذہب اختیار کر لیں گے۔ مسلمان ہندوستان میں محمد بن قاسمؒ کے دور سے آباد ہیں۔ مسلمانوں نے ہندوستان پر ایک ہزار سال زائد حکومت کی ہے۔ مسلمانوں کے دور حکومت میں امن امان تھا۔ ہندوستان ترقی کر رہا تھا۔ مغلوں کے دور میں دنیا کی کل آمدنی کا ۲۵ فی صد حصہ ہندوستان کا تھا۔ آج بھارت کا شمار غریب ملکوں میں ہوتا ہے۔ بھارت کی انتہا پسند موددی دہشت گرد حکومت نے پارلیمنٹ میں مردم شماری کا امتیازی قانون پاس کیا ہے۔ اس قانون کے خلاف پورے بھارت میں مظاہرے ہو رہے
ہیں۔ بھارت کی کئی ریاستوں نے اس بل کو اپنی پارلیمنٹ کے ذریعے نامنظور کر دیا ہے۔ مسلمانوں سے پوچھا جا رہے کہ دستاویزات دکھائو کہ کب سے بھارت میں رہائش پزیر ہو۔ جبکہ مسلمان ہندوستان کے ہزار بارہ سو سال سے باشندے ہیں۔ مسلمانوں کی نسلوں کی نسلیں ہندوستان میں آباد ہیں۔ آر ایس ایس کی موجودہ بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت مسلمانوںکو اپنے ہی ملک میںاجنبی بنا رہی ہے مردم شماری کو پورے ہندوستان نے رد کر دیا ہے۔ لیکن بھارت میں قائم دہشت گرد آر ایس ایس حمایت یافتہ بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت نے بھارت میں مسلمانوں کا جینادو بھر کر دیا ہے۔ نرنیدر داس مودی آر ایس ایس کے بنیادی رکن ہے۔ ہٹلر کی سوچ، یعنی ہندو قومی برتری کی بنیاد پر قائم آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت کسی دوسری قوم کو بھارت میں دوسرے درجے کی قوم بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ بھارت کے ۲۵ کروڑ مسلمانوں کو یہ منظور نہیں۔ مسلمانوں کو غلام بنانے کے لیے ہٹلر کی جانشین وہی پرانا طریقہ استعمال کر رہے جو براہمن سامراج نے اختیار کیا تھا۔
ہندو برتری قومی فلسفہ کے تحت وہ کشمیر سمیت بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی برتائو کرنا چاہتے ہیں ہندو کہتے ہیں قائد اعظمؒ محمد علی جناح نے ہماری گائو ماتا کے ٹکڑے کر کے پاکستان بنایا تھا۔ ہمیں پاکستان کو توڑ کر بھارت میں شامل کرنا ہے۔ اسی ڈاکڑائین پر عمل کرتے ہوئے مشرقی پاکستان کو قومیت کی بنیاد پر بنگلا دیش بنایا۔ موددی نے بنگلا دیش میں اعلانیہ بات کہی تھی۔ اندرا گاندھی نے تاریخی بیان بھی دیا تھا کہ قائد اعظم ؒ کا دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ مسلمانوں سے ایک ہزار ہندوئوں پر حکومت کا بدلہ بھی لیے لیا ہے۔ بھارت کے حکمران کہتے ہیں کہ پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھے اب اس کے دس ٹکڑے کریں گے۔ موددی نے پاکستان کو سبق سکھانے کے نام پر الیکشن جیتا ہے۔ بھارت کا آرمی چیف کہتا کہ حکومت اجازت دے میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کر لوںگا۔ پاکستانی حکمرانوں اور عوام، کیا باقی رہ گیا ہے جو ہٹلر کی جانشین بھارتی حکومت سے آپ سننا چاہتے ہیں؟ اس کا حل کیا ہے؟ اس پر پاکستان کے حکمرانوں کو سوچنا ہے کہ کیا طریقہ اختیار کریں جس سے بھارت کے ڈاکٹرائن کا توڑ ہو سکے۔ حکومت نے بلا شبہ اقوام متحدہ میں مقدمہ پیش کیا ہے جس میں اقوام متحدہ اور بڑی حکومتوں کی بے انصافی پر انہیں جھنجھوڑا۔ ہماری بہادر مسلح افواج نے بھارتی ہوائی حملہ کا بھی منہ توڑ جواب بھی دیا، مگر بھارت کی اعلانیہ جارحیت کے لیے یہ جواب ہرگز کافی نہیں۔ بھارت کو پاکستان توڑ کر اپنے ملک میں شامل کرنے کے ڈاکٹرائن کا سخت جواب دینا ضروری ہے۔ بھارت کی ہندوتوا کا جواب صرف اور صرف پاکستان کی مدینہ کی جہادی اور فلاحی ریاست ہی دے سکتی ہے۔ جب بھارت پاکستان کو ختم کرنے کا اعلانیہ کہہ رہا ہے تو ہمیں بھی اعلانیہ جواب دینا چاہیے حکمران فوراً پاکستان میں مدینے کی فلاحی جہادی ریاست کا اعلان کر دیں۔ کشمیریوں کی عملی مدد کریں۔ کشمیریوں کے ساتھ ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستان کے عوام چکوٹھی تک مارچ کریں۔ جہاد فی سبیل اللہ کا مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان اعلان کرے۔ سفارتی محاذ پر نائب وزیر خارجہ برائے کشمیر مقرر کرے۔ بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈسک بنائے جائیں۔ پوری دنیا میں کشمیری مسئلہ کشمیر کو زندہ کیے ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکومت ان کی ہر طرح سے مدد کرے۔