آئی جی معاملے پر سندھ اور وفاق میں کشیدگی بڑھ گئی

113
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے آئی جی سندھ سید کلیم امام ملاقات کررہے ہیں

اسلام آباد/کراچی ( نمائندگان جسارت+ ) انسپکٹرجنرل پولیس کلیم امام کے معاملے پر سندھ اور وفاق کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ۔ وزیراعظم عمران خان نے آئی جی سندھ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ملاقات کے دوران کلیم امام سے پوچھا کہ سندھ میں کیا چل رہا ہے؟ جس پر انہوں نے سیاسی دباؤ سے متعلق آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ نے صوبے کے مقدمات سے متعلق بھی وزیراعظم کو تفصیلات بتائیں۔وزیراعظم عمران خان نے آئی جی سید کلیم امام کی کارکردگی کو سراہا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ فی الحال اپنا کام جاری رکھیں، مشاورت کے بعد فیصلہ کریںگے۔ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے نئے آئی جی سندھ کے لیے عمران احمر کا نام تجویز کردیا۔ وزیراعظم نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے رابطہ کرکے ان سے آئی جی سندھ کے معاملے پر مشاورت کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے صوبائی حکومت سے رابطہ کریں۔ادھر سندھ حکومت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی محکمہ داخلہ کو آئی جی سندھ کلیم امام کے خلاف چارج شیٹ تیار کرنے کی ہدایت کردی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی ڈٹ گئے ہیں اورانہوں نے گورنر سندھ عمران اسماعیل کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں آئی جی کے معاملے پر بات سے انکار کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق انہوں نے گورنر پر واضح کیا کہ آئی جی پولیس کے معاملے پر آپ کا مینڈیٹ نہیں، اس کے علاوہ تمام امور پر بات کروںگا۔سندھ حکومت آئی جی کیخلاف چارج شیٹ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کوارسال کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی تقاریر،کابینہ اراکین کیخلاف اقدامات کوچارج شیٹ کاحصہ بنایاجارہا ہے، چارج شیٹ میں وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف سازش کا بھی ذکر کیا جائے گا۔دوسری جانب سندھ حکومت کے ترجمان اور مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی مرتضیٰ وہاب نے آئی جی سندھ کے نام کے حوالے سے وفاقی کابینہ کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر گورنر سندھ سے کوئی مشاورت ہوگی اور نہ ہم اس کے پابند ہیں، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سندھ کے درمیان ملاقات میں نئے آئی جی کے نام پر اتفاق ہوگیا تھا اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ آئی جی کلیم امام سیاسی ہوگئے ہیں، پی ٹی آئی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) ان کے لیے سیاست کر رہی ہیں وہ اپنے فرائض انجام دینے کے بجائے بیان بازی میں مصروف ہیں۔سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ صوبے میں جرائم ہوتے ہیں تو مورد الزام صوبائی حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے آئی جی کے عہدے کے لیے 3نام ارسال کیے تھے، بعد ازاں 5نام مانگے گئے جس پر مزید اضافہ کرکے 5نام بھی بھیج دیے گئے لیکن اس پر بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی ملاقات میں بھی 5میں سے ایک نام پر اتفاق ہوگیا تھا اور دوسرے روز نوٹی فکیشن جاری کرنے کا کہا گیا تھا لیکن میڈیا سے معلوم ہوا کہ پی ٹی آئی کے اتحادیوں نے سندھ حکومت کے ناموں پر اعتراض کردیا ہے۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر آئی جی پولیس کی جانب سے بیان آیا کہ وہ کہیں نہیں جارہے ہیں، ہاتھی مرا ہوا بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے اور بعض سازشوں کا بھی ذکر کیا گیا جبکہ ان کے بیان کے بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ان سے متعلق فیصلہ بھی کرلیا گیا جس پر ہمیں حیرت ہے۔ صوبائی ترجمان نے کہا کہ پولیس ایکٹ کے مطابق آئی جی پولیس سے متعلق مشاورت گورنر سندھ کے بجائے وفاق اور صوبے کے درمیان ہونی ہے، وفاقی کابینہ ایک آئینی فورم ہے وہاں ایسا فیصلہ کیسے ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے آئی جی کی تعیناتی آئین و قانون کے مطابق ہونی چاہیے، سندھ حکومت کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی طور پر اپنا حق نہیں مانگ رہی، پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں کتنے آئی جی تبدیل ہوئے کبھی کسی نے بات نہیں کی۔ان کا کہنا تھا پنجاب حکومت نے 26 نومبر کو وفاق کو آئی جی پولیس کے لیے3 نام ارسال کیے اور وفاق نے اسی روز ان میں سے شعیب دستگیر کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔وفاقی حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک صوبے میں چند گھنٹوں میں مشاورت ہوجاتی ہے جبکہ دوسرے صوبے میں اسی کام کے لیے کئی روز لگا دیے گئے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہم وزیراعظم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ 2 نہیں ایک پاکستان تو خدارا ہمارے ساتھ بھی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی طرح برتاؤ کیا جائے اور عوام کے حق کو نہ چھینا جائے۔ علاوہ ازیں سندھ کے وزیراطلاعات سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیکہا ہے کہ وفاق سے باضابطہ کسی آئی جی کے نام کی اطلاع نہیں آئی،سندھ حکومت کی مشاورت کے بغیر آئی جی تعینات نہیں کیا جا سکتا، ہم نے جو 5نام دیے ہیں ،ان میں سے کسی کو آئی جی ہونا چاہیے، وفاق کوئی اپنا نام دے گا تو یہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وفاق اپنی مرضی کا آئی جی لگوائے گا تو ہم امن وامان کی ذمے داری سے الگ ہو جائیں گے، 5 ناموں کے سوا کوئی اور آئی جی بنا توامن وامان کی ذمے داری وفاق پر ہوگی۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ قانون میں یہ نہیں لکھا کہ ہر ایم پی اے، ایم این اے کو مطمئن کیا جائے۔