پاکستان کو سیکولر کس نے بنایا

331

جاوید اکبر انصاری
1947 کے رمضان المبارک کی 27 ویں شب میں 14 اگست کو ایک اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان ہوتا ہے اعلان تو انگریز کرتا ہے لیکن یہ ریاست بنانے والوں نے بہت واضح طور پر مسلمانوں کے لیے آزاد وطن کی جدوجہد کی تھی۔ لیکن پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ چند برسوں میں اس ملک کا قبلہ بدل ڈالا گیا اور چند عشروں میں پاکستان صرف نام کا اسلامی رہ گیا اب یہ حال ہے کہ مختلف تجربات کے بعد پاکستانی ریاست تیزی سے لبرل بنتی جارہی ہے۔ نیو لبرل ازم وہ سرمایہ دارانہ حکمت عملی جس کا مقصد سرمایے کے معاشرتی غلبہ کے ذریعہ ریاست کو مارکیٹ کا آلہ کار بنانا ہے۔ پھر ریاست کا مقصد وجود اس کے نیولبرل دور میں محض سرمایہ کی بڑھوتری ہوجاتا ہے۔ نیولبرل ازم کا عروج لبرل ازم کی جزوی توسیع بھی ہے اور اس کے زوال کا اظہار بھی۔ نیو لبرل مفکرین سرمایے کے بڑھتے ہوئے ارتکازی رحجان اور ریاستی ذرائع سے سرمایہ کی معاشرتی تحکیم کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ تمام معاشرتی تعلقات کو مارکیٹی مسابقت (market competition) کے واحد اصول کی بنیاد پر مرتب کرنے کے وکیل ہیں ان کی رائے میں پورے معاشرہ کو ایک صارفی جمہوریت کی شکل اختیار کرلینی چاہیے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کو اسلامی سے لبرل اور سیکولر کس نے بنایا؟ وہ کیا واقعات اور عوامل تھے جن کے سبب پاکستان یہاں تک پہنچا۔
ہر نیولبرل ریاست ایسی ریاست ہوتی ہے جو مارکیٹی مسابقت کو اپنے اصل الاصول کے طور پر قبول کرتی ہے۔ لازماً اپنی رعایا کے اعتبار سے محروم ہوتی چلی جاتی ہے۔ کیونکہ مارکیٹی مسابقتی تحکم بحیثیت ریاستی اصل الاصول کے نہایت غیر فطری ہے۔ نیولبرل ریاست میں لازماً سرمایہ دارانہ ظلم بڑھتا چلاجاتا ہے۔ کیونکہ مارکیٹی مسابقت کے اصول کی بنیاد پر مرتب کارفرمائی معاشی عدم مساویت اور سیاسی جبر دونوں کو مستقل فروغ دیتے رہتے ہیں۔ اجارہ داریوں (monopoly) کا فروغ اور مارکیٹی تحکم کی عمومیت ایک سکے کے دورخ ہیں۔
نیولبرل ریاست سود اور سٹہ کے بازاروں کی غلام ہوتی ہے وہ ایک ایسی اقتصادیات کا سہارا لیتی ہے جہاں دولت کھنچ کھنچ کر اشیا کے پیداواری مراکز سے نکل کر سود اور سٹہ کی مارکیٹوں میں مرتکز ہوتی چلی جاتی اور چونکہ ان مارکیٹوں کی تمام تر کارفرمائی کا دار ومدار ظن اور تخمینہ (speculation) پر ہوتا ہے لہٰذا ان میں بحران آنے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتاہے۔ جیسا آج کل ہے۔ سود اور سٹہ کے پھیلاؤ کا مطلب قرضوں کی عالمگیریت ہے۔ نیولبرل ریاست کا ہر شہری اور خود نیولبرل حکومت زیادہ سے زیادہ مقروض ہوتی چلی جاتی ہے۔ آج عمران خان کی حکومت دھڑا دھڑ بیرونی اور ملکی سودی قرضہ لے رہی ہے۔
ضیاء الحق مرحوم کی شہادت کے بعد سے آج تک پاکستان کے تمام حکمران نیولبرل سامراج کے پٹھو آلہ کار رہے ہیں۔ یہ پٹھو حکمران پچھلی تین دہائیوں سے پاکستانی ریاست کو مسمار کررہے ہیں۔ آج عمران خان یہ کام کررہا ہے کل یہی کام نواز شریف اور بے نظیر، زرداری نے کیا تھا۔ یہ دہریہ پٹھو حکمران معاشرے کے ہر شعبہ، تعلیم، اصلاحات، پیدوار، تمویل، مراسلت، صحت اور ماحولیاتی تحفظ میں قانون تحکیم سرمایہ اور مارکیٹی مسابقت کی بنیاد پر تنظیم سازی کررہے ہیں۔ ریاست کی حاکمیت سرمایہ کی حاکمیت کے سوا کچھ نہیں رہ گئی۔ پاکستانی نیولبرل ریاست کا دارومدار سامراجی سرمایہ دارانہ نظام پر بڑھتا چلاجارہا ہے۔ سامراجی سرمایہ داری آج کل عالمی اجارہ داریوں کا ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو پوری دنیا میں اشیائی زنجیروں میں بندھا ہوا ہے اور جس نیٹ ورک کو ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ مراکز کے سود اور سٹہ کے بازار منظم کیے ہوئے ہیں۔ یہ عالمی سامراجی سرمایہ دارانہ نظام سودی بچتوں کی بہتات اور پیدواری شرح نمو کے انحطاط کے رحجانات رکھتا اور اس میں گاہے گاہے مالیاتی بحران آتے رہتے ہیں عالمی اجارہ داریاں اور سامراجی حکو متیں پسماندہ ممالک سے وسائل بچتوں، منافع اور ٹیکسوں کی شکل میں عالمی سود اور سٹہ کے بازاروں میں مستقلًا منتقل کرتی رہتی ہیں اور پسماندہ ممالک کے قرضہ مستقل بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ تمام دنیا میں عدم مساویت اور عدم استحکام بڑھتاچلا جاتا ہے۔
پاکستانی ریاستی دہریہ اشرافیہ آئی ایم ایف کا سہارا لیکر اس ملک پر عالمی سامراجی سرمایہ داری کی گرفت مستحکم کررہی ہے۔ ستمبر ۲۰۱۹ سے شروع ہونے والا آئی ایم ایف کا ای ایف ایف معاہدہ ۲۰۰۸ اور ۲۰۱۳ کے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے کیے گئے معاہدوں کا تسلسل ہے۔ ان معاہدوں کے تحت پاکستانی ریاست کی خود مختاری سلب کرلی گئی ہے۔ پالیسی سازی کلیتاً آئی ایم ایف کے ہاتھوں میں دے دی گئی ہے۔ پاکستانی پالیسی ساز آئی ایم ایف کے زرخرید غلام بن گئے ہیں اور ہر تین ماہ میں ان کی کارکردگی کی جانچ پڑتال آئی ایم ایف کرتا ہے۔ اب اسٹیٹ بینک بھی رضا باقر اور سید جیسے افراد کے ذریعے ان کے کنٹرول میں آچکا ہے۔ آئی ایم ایف سے ان معاہدوں کے تحت پاکستان کو سود اور سٹہ کی غلاظت میں ڈبویا جارہا ہے۔ روپے کا شرح تبدل (exchange rate) اور اسٹیٹ بینک کا پالیسی شرح سود عالمی سود سٹہ اور کرنسی کے مارکیٹوں کے رحجان پر متعین کیے جارہے ہیں۔ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان پر اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھایا جارہا ہے۔ بیروزگاری عام ہوگئی ہے سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی حلال معیشت کو منہدم کیا جارہا ہے۔ دستاویزی دہشت گردی (جسے ڈاکومینٹیشن کہتے ہیں) کی آڑ میں ہر وہ کاروبار تباہ کیا جارہا ہے جو سود اور سٹہ کے بازاروں کے باہر ہے، ٹیکس بڑھا رہے ہیں اور ٹیکس کی یہ رقم عالمی سود خوروں اور سامراجی حکومتوں کو مستقل ترسیل کی جارہی ہے۔
ہم اسلامی انقلابی ہیں ہم جس نظام زندگی کو منہدم کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں وہ سرمایہ داری ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ پاکستانی نیولبرل ریاستی اشرافیہ کو پاکستانی ریاست کو سرمایہ دارانہ سامراج کی باجگزار بنانے نہ دیں یہاں سود اور سٹہ کی کارفرمائی کی تحدید کریں۔ حلال کاروبار کا دفاع کریں اور عوام کو باور کرائیں کہ پاکستانی ریاست سرمایہ دارانہ سامراجی نظام میں تحلیل ہورہی ہے۔ وہ جو روز مرہ کی مشکلات محسوس کررہے ہیں وہ محض وقتی نہیں دائمی ہیں آئی ایم ایف کی ڈکٹیٹر شپ کو قبول کرنے کا مطلب پاکستانی کی معاشرتی اور ریاستی مکمل تباہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اسلامی جماعتیں آئی ایم ایف کے خلاف ایک دیرپا محاذ کھولیں ان معاہدوں کو منسوخ کرنے کی جدوجہد کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس معاہدہ کے مضمرات واضح کیے جائیں۔ ثابت کیا جائے کہ اس معاہدے پر عمل کرنا ملکی معاشی خود کشی کرنے کے برابر ہے اور متبادل ملکی معاشی حکمت عملی کی نشاندہی کی جائے۔