روٹی‘ چینی اور گھی غائب ہوگئی‘ تبدیلی عوام پر عذاب بن کر نازل ہوئی‘ حسین محنتی

149
ٹنڈو محمد خان: امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی راجو نظامانی میں اجتماع کارکنان سے خطاب کررہے ہیں

ٹنڈومحمد خان(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ جب تک ملک میں سودی اور طاغوت کا نظام نافذہے ملک کی ترقی اور عوام کے مسائل حل نہیں ہوسکتے،حکمرانوں کی نااہلی اور بددیانتی کی وجہ سے آج روٹی، چینی،گھی غائب ،تبدیلی عوام پر عذاب بن کر نازل ہوئی ہے، جب تک ملک میں ابلیسی نظام نافذ ہے عوامی مسائل اور ملک کی ترقی ناممکن ہے، حکمران خود اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ قوم آئی ایم ایف سے وصول کردہ 6 ارب ڈالر کی سزا بھگت رہی ہے،جب تک ملک میں سودی اور طاغوت کا نظام نافذ ہوگا ملکی ترقی اور عوام کے مسائل حل ہونا ناممکن ہے،جماعت اسلامی کا واحد مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ کرنا ہے جس کیلئے ہم روز اول سے جدوجہد کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع ٹنڈومحمد خان کے تحت راجو نظامانی مقام پر کارکنان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مقامی امیر عامر منصوری، رئیس غلام قادر نظامانی ،عبیداللہ نظامانی اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔محمد حسین محنتی نے مزید کہا کہ حکومت میں جو لوگ بیٹھے ہیں،پولیس،بیوروکریسی سمیت ہر جگہ پر موجود طاقتور لوگ دین سے لاتعلق ہیں اور طاغوتی نظام کو نافذ کرنے میں مددگار ہیں۔آٹے، چینی،ٹماٹر سمیت بحران در بحران میں حکومتی وزراء اور سیاسی لوگ ملوث ہیں جس کی رپورٹ میڈیا میں آچکی ہے، تبدیلی اور مدینے کی ریاست کی دعویدار حکومت مکمل طور پر ناکام اور ان کے تمام وعدے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوچکے ہیں۔ آج روٹی، چینی غائب ہوگئی ہے زرعی اور گندم پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہونے کے باوجود آج آٹے کیلئے پوری قوم قطار میں لگی ہوئی ہے جو سودی نظام معیشت اور آئی ایم ایف کے احکامات پر عمل کرنے کا نتیجہ ہے، موجودہ حکمرانوں کی نااہلی اور بدترین کارکردگی کی وجہ سے آج پوری قوم مہنگائی،بیروزگاری ،مفلسی اور بھوک بدحالی کا شکار ہوچکی ہے،حکمرانوں کا کام محض عوام پر ٹیکس عائد کرنا نہیں بلکہ ان کی خدمت کرنا ہے لیکن موجودہ حکمرانوں نے بجلی،گیس، پیٹرول سمیت اشیائے خوردونوش پر بھاری ٹیکس عائد کرکے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ اسلئے قوم کے پاس اب اور کوئی آپشن نہیں ہے سوائے اللہ کے دین کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور دیانتدار ومخلص قیادت کو منتخب کریں۔ جماعت اسلامی قرآن وسنت کی روشنی میں لوگوں کی تعمیر سیرت اور انہیں معاشرے کا اعلیٰ ترین انسان بنانے کیلئے ہمہ تن کوشاں ہے، جماعت اسلامی کی قیادت سراج الحق سے لیکر نعمت اللہ خان تک معاشرے کیلئے امانت، دیانت اور شرافت کی سیاست کا ایک روشن مینار ہے، جماعت اسلامی کا واحد مقصد اللہ کے دین کی سربلندی اور اسلام کے بابرکت نظام کو نافذ کرنا ہے جس کیلیے قوم ہمارا ساتھ دے،70سال سے جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں کو آزمانے کے باوجود قوم کی تقدیر بدلی اور نہ ملک ترقی کے راہ پر گامزن ہوسکا الٹا قوم اور ملک عالمی ساہوکاروں کے غلام اور گروی ہوکر آج شدید مشکلات کا شکار ہے۔جب تک اس ملک کا نظام نہیں بدلے گا کوئی خیر اور اچھائی کی توقع کرنا خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے۔پاکستان میں جمہوریت کے نام پر خاندانی اور موروثی نظام نافذ ہے ، جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوام کی بات کی ہے، دستور پاکستان کیلئے جماعت اسلامی نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ہمارے دستور اور آئین میں درج ہے کہ یہاں کے حکمران اللہ کے نائب اور خلفیہ جبکہ حاکمیت اللہ کی ہوگی لیکن آج پاکستان کے حکمران امریکہ، برطانیہ اور آئی ایم ایف کے نائب اور خلیفہ کا کردار ادا کررہے ہیں، کارکنان آنے والے بلدیاتی انتخابات کیلئے ابھی سے تیاری شروع کردیں ،ہر گلی محلے اور گائوں میں دین کی دعوت اور موجود ہ وسابق حکمرانوں کی نااہلی اور ناقص کارکردگی کو عیاں کرے کی اشد ضرورت ہے،جب ہم سنت اور قرآن کے مطابق قوم میں تبدیلی لائیں،جب گھر، معاشرہ اور شہر،گائوں تبدیل ہونگے تو ملک میں بھی ازخود تبدیلی آجائے گی۔