کشمیر کی فکر کریں

154

جاوید الرحمن ترابی
وزیراعظم عمران خان اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں ایک اہم ملاقات ہوئی ہے‘ ٹی وی پر نشر ہونے والی خبر اور اس کے ساتھ چلائی جانے والی فوٹیج سے پتا چل رہا ہے کہ یہ ملاقات کیسی رہی‘ فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر زلفی بخاری اور پاکستانی وفد کے افراد ٹرمپ کی کسی بات پر کس طرح مسکرا رہے ہیں‘ یہ مسکراہٹ بڑی معنی خیز ہے‘ ٹرمپ نے کوئی لطیفہ ہی سنایا ہوگا‘ اسی لیے تو ہنسی آئی ہے۔ وزیر اعظم عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے ان دنوں ڈیوس گئے ہوئے ہیں جہاں پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کیا اس کے بعد وزیر اعظم نے خطاب کیا ٹرمپ کا اصرار ہے کہ انہوں نے دوسرے ممالک میں جو بھی اقدامات کیے ہیں وہ امریکا کے تحفظ کے لیے کیے ہیں یقینا اپنے ملک کا تحفظ ہر حکمران کی بنیادی ذمے داری ہے‘ لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اور کیا سوچ رہے ہیں‘ کب تک سوچتے رہیں گے‘ یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم اب کسی کی جنگ میں شریک نہیں ہوں گے‘ ہمیں اب کسی کو آسانی بہم پہنچانے کے لیے مذکرات بھی نہیں کرانے چاہئیں‘ جہاں بھی امریکا نے سینگ پھنسائے ہوئے ہیں وہاں وہ جانے اور اس کا کام‘ جو کچھ بھی صدر ٹرمپ نے کہا وہ ان کے ملک کا مفاد ہے اور ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن یہ تجزیہ ضرور کرنا ہے کہ امریکا نے تمام جارحانہ اقدامات سے اپنا ہی تحفظ کیا ہے اور دوسرے ممالک کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے۔ ہم آج امریکا ہی کی وجہ سے مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔
امریکا کے ہر حکمران نے امریکی فوج کو کمزور ممالک میں تباہی پھیلانے کے لیے استعمال کیا ہے کھربوں ڈالر ضائع کرنے کے باوجود امریکا کو کہیں بھی کامیابی نہیں مل سکی۔ کوریا اور ویتنام کی طویل جنگیں تو قصہ پارینہ ہوئیں جن میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔ افغانستان اور عراق پر چڑھائی اور بے شمار لوگوں کی ہلاکت تو زیادہ پرانی بات نہیں اور یہ سلسلہ بھی جاری ہے امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان اور عراق سے فوجیں نکال لیں گے لیکن ابھی تک وہ لطیفے ہی سنارہے ہیں اور تو ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں عراق سے فوج نکالنے کی یہ شرط رکھی ہے کہ پہلے وہ رقم ادا کی جائے جو امریکا نے عراق کے ہوائی اڈوں اور دیگر تنصیبات پر خرچ کی ہے یہ کیسا مطالبہ اور سوال ہے‘ بلکہ ہونا یہ چاہیے جن ماہرین کی تجویز پر وہ یہاں بلیسٹک ہتھیار تلاش کرنے آئے تھے‘ ان کی غلط رپورٹ پر ان کی سرزنش کی جائے‘ الٹا عراق سے مطالبہ ہو رہا ہے کہ پیسے دے‘ سوال یہ ہے کہ امریکا کو کس نے کہا تھا کہ وہ عراق میں آئے اس کی درخواست کس نے کی تھی؟ یہ سب تو امریکا نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا ہے جیسا کہ ابھی صدر ٹرمپ نے خود اعتراف کیا ہے افغانستان میں تو بھارت نے بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور وہ نہیں چاہے گا کہ اس کے مفادات کا محافظ امریکا وہاں سے نکلے اور پاکستان کے مقتدر حلقے بھی یہ نہیں چاہتے کہ امریکا افغانستان سے نکلا تو افغان پاکستان پر چڑھ دوڑیں گے۔
ڈیوس میں ٹرمپ عمران ملاقات کے دوران امریکی صدر نے عمران خان کو اپنا دوست قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہم پاکستان کے اتنے قریب نہیں تھے جتنے اب ہیں امریکا سے دوستی جی کا جنجال ہے۔ خود امریکی دانشور اور امور خارجہ کے ماہر ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ امریکا کی دوستی اس کی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے لیکن ہمارے ہر حکمران نے اس دوستی پر فخر کیا ہے کچھ عرصہ قبل صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کرانے کا اعلان کیا تو ہمارے حکمرانوں نے بڑی بغلیں بجائی تھیں اور اسے بڑی کامیابی قرار دیا تھا… لیکن بھارت جو جی میں آیا وہ سب مقبوضہ کشمیر میں کیے چلا جارہا ہے‘ اور وزیر اعظم کہتے ہیں کہ ایل او سی کے پار نہ جائے‘ اصولی طور پر کسی کشمیری باشندے کو اس کام سے نہیں روکا جاسکتا ہے اگر آزاد کشمیر کے لوگوں کو ایل او سی کے پار جانے سے روکا جارہا ہے تو اس کا مطلب واضح ہے کہ ہم نے کچھ تسلیم کرلیا ہے…
صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی اس پیشکش کا کیا ہوا؟ بھارت نے تو ثالثی یکسر مسترد کردی تھی صدر ٹرمپ تو بھارت کو ناراض نہیں کرسکتے کیونکہ امریکا کا مفاد یہی ہے اب پھر صدر ٹرمپ سے درخواست کردی گئی کہ بھارت سے معاملات حل کرائیں اور صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہم تیار ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے نہ تو دنیا دیکھ رہی ہے اور نہ اقوام متحدہ اہمیت دے رہی ہے۔ سری نگر سے لے کر مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر کی ہر گلی‘ محلہ بازار‘ باغات سب خون سے رنگین ہوچکے ہیں، کشمیر کے معاملے میں بھارت چور، ڈاکو، لٹیرا اور بدعنوان ہے اور ہم اس چور لٹیرے اور بدعنوان کو پوچھ ہی نہیں رہے۔