ایم کیو ایم کی سیاست آدھا تیتر آدھا بیٹر

283

محمد اکرم خالد
یقینا کراچی کے عوام خاص طور ایم کیو ایم سے وا بستہ افراد 22 اگست 2016ء کے دن کو نہیں بھولیں ہوںگے اس دن بانی متحدہ نے کراچی پریس کلب کے باہر لندن سے خطاب کرتے ہوئے حکومت اور اداروں کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کی اور ساتھ ہی ایک ہجوم کو میڈیا ہاوسیز پر حملہ آوار ہونے کے لیے اُکسایا گیا یہ ایم کیو ایم کی تاریخ کا وہ سیاہ دن تھا جس میں ایم کیو ایم کا زوال شروع ہوا ایم کیو ایم کے مرکز ۹۰ سمیت متحدہ کے تمام آفس کو سیل کر دیا گیا اور سیکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ساتھ ہی بڑی مقدار میں غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا متحدہ کی سینئر لیڈر شپ کو بھی رینجرز کی جانب سے گرفتار کیا گیا اور متحدہ بانی کے خطاب کو پاکستان میں مکمل طور پر سیل کر دیا گیا اور ان پر غداری کے مقدمات بھی قائم کیے گئے۔ اگلے ہی روز ایم کیو ایم کے سینئر رہنماء فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں بانی متحدہ سے اظہار لاتعلقی کا اعلان کیا گیا اور پھر ایم کیو ایم پاکستان کا اعلان کیا گیا جس کی سر براہی فاروق ستار نے کی اور چند ماہ بعد ایم کیو ایم پاکستان نے کراچی کی سطح پر فاروق ستار کی قیادت میں ایک بڑا عوامی پاور شو کر کے ایم کیو ایم کو ایک نئی جان بخشی مگر بد بخت اقتدار کا نشہ جس کے لیے سگے خون بہا دیے جاتے ہیں کچھ ایسا ہی ایم کیو ایم کے ساتھ ہوا ایم کیو ایم کے سینئر رہنماء مصطفی کمال کو جوائن کرتے نظر آئے تو کچھ نے ایم کیو ایم کی سربراہی پر سوال اُٹھائے یہ اختلافات زور پکڑتے رہے اور سینیٹ الیکشن میں یہ لاوا پھٹ پڑا اور ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو ایم کیو ایم کی سربراہی اور اپنی جماعت سے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکل باہر کھڑا کر دیا۔ جس کے بعد ایم کیو ایم ایک باہر پھر زوال پزیر ہونا شروع ہوگئی جس کا
زوال اس وقت بھی جاری ہے۔ اس زوال کی سب سے بڑی وجہ ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات ہیں۔35 سال تک کراچی سے قومی اسمبلی کی اکثر نشست لینے والی ایم کیو ایم 2018 میں سات نشستیں حاصل کر سکی جس میں یقینا دھاندلی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مگر یہ اُس کی دھاندلی تھی کہ جس کے باوجود ایم کیو ایم اُسی جماعت کی اتحادی ہے جس پر دھاندلی کے الزامات ایم کیو ایم کی جانب سے لگائے گئے۔ آج کراچی شہر کے مسائل کی آڑ میں جس جمہوریت کو ایم کیو ایم بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔16 ماہ میں اس جمہوری حکومت نے مہنگائی کے ہاتھوں غریب عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔
آج ایم کیو ایم کی قیادت کابینہ سے علیحدگی کا ایک سوچا سمجھا روایتی ڈراما کر رہی ہے ایک بار پھر کراچی کے عوام اور ان کے مسائل پر سیاست کی جاری ہے اقتدار میں 16 ماہ رہنے کے بعد ایم کیو ایم کراچی شہر کے مسائل پر کیوں پریشان ہے اُس وقت ایم کیو ایم کہاں تھی جب اس شہر میں تجاوزات کے نام پر اس شہر کے نوجوانوں کو بے روزگار کیا جارہا تھا چارسال سے میئر کے منصب پر براجمان وسیم اختر اپنے ہی شہر کے لوگوں کو بے روزگار کر کے بڑے فخریہ انداز میں کراچی کو خوبصورت بنانے کا راگ الاپ رہے تھے، بارشوں میں اس شہر کا تالاب زدہ منظر اور سیکڑوں بے گناہ ا فراد کی کرنٹ لگنے سے ہلاکتیں کیا ایم کیو ایم کو اُس وقت خان صاحب کے اقتدار میں رہتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ کابینہ سے علیحدگی کا راگ صرف ایک سیاسی ڈراما ہے کون کہتا ہے کہ ایم کیو ایم کابینہ کا حصہ نہیں رہی کراچی سے منتخب ہونے والے سینیٹر فروغ نسیم کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے جو اس وقت تک خان صاحب کے قانونی وزیر ہیں جو شاید ایم کیو ایم کی قیادت سمجھنا نہیں چاہتی کیوں کہ ان کی نیتوں میں اس وقت بھی سنجیدگی نہیں ہے ایم کیو ایم کا کراچی کے مسائل پر یہ کیسا احتجاج ہے کہ یہ اُس حکومت کو سپورٹ کرتے رہیں گے، جس نے 16 ماہ میں عوام پر مہنگائی کے بم بر سائے ہیں، 16 ماہ سے کراچی کے مسائل کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ مان لیتے ہیں کہ ماضی کے حکمران نالائق نااہل تھے اُس وقت کی ایم کیو ایم جرائم پیشہ تھی یہ بھی درست ہے کہ کراچی کے مسائل 16 ماہ کے نہیں ہیں مگر آج کی ایم کیو ایم نفیس اور خان صاحب کی حکومت تو صادق و امین ہے تو پھر مسائل کیوں حل نہیں کیے جارہے۔ ہماری نظر میں دونوں جانب سے مسائل پر سنجیدگی نظر نہیں آتی۔
سب سے پہلے تو ایم کیو ایم کراچی کے عوام سے کابینہ سے نکلنے کا مذاق بند کرے کیوں کہ جب تک ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے فروغ نسیم وفاقی وزیر ہیں اُس وقت تک ایم کیو ایم کابینہ کا حصہ ہی سمجھی جائے گی، ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ فروغ نسیم کابینہ سے علٰیحدگی پر رضامند نہیں ہیں جس کو نیا رنگ دیا جارہا ہے، ایم کیو ایم کی کراچی کے عوام کے ساتھ یہ دوغلی پالیسی اب عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتی۔ اگر ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت رابطہ کمیٹی کراچی کے سنگین مسائل پر سنجیدہ ہے تو پھر حکومت سے اُس وقت تک مکمل علٰیحدگی کا اعلان کرے جب تک کراچی کے مسائل کو درست سمت پر فوری گامزن نہیں کیا جاتا جب کسی منصب کے لیے آئین قانون میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اس بل کی فوری منظوری ہوسکتی ہے تو پھر سب کچھ ہوسکتا ہے پھر کراچی کے مسائل بھی فوری طور پر حل کیے جاسکتے ہیں مسئلہ نیتوں کا ہے۔
اب یہ حکومت کا نہیں ایم کیو ایم کا ا متحان ہے کہ پہلے ایم کیو ایم آدھا تیتر آدھا بیٹر کی سیاست سے باہر نکلے اور اگر وہ کراچی کے مسائل پر واقع سنجیدہ ہے تو مکمل کابینہ سے باہر آئے اور حکومت سے علٰیحدگی کا اعلان کرے اور اُس وقت تک حکومت کو سپورٹ نہیں کرے جب تک کراچی کے مسائل اور ملک بھر میں ہونے والی مہنگائی کو فوری قابو کرنے کی سنجیدہ کوشش حکومت کی جانب سے نہیں کی جاتی۔ جمہوریت کو بچانے کا راگ الاپنا بند کیا جائے عوام بے وقوف نہیں ہیں اگر ایم کیو ایم 16ماہ اقتدار میں رہنے کے باوجود کسی لولی پاپ کی منتظر ہے تو یہ ایم کیو ایم کی غیر سنجیدہ ذاتی مفادات کی سیاست سمجھا جائے گا۔ ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کے معاشی حب کراچی کے مسائل پر فوری توجہ دیں اور اگر وہ اپنا اقتدار محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ایم کیو ایم سمیت اپنے اتحادیوں کے مسائل کو فوری حل کریں کیوں کہ آپ کا اقتدار ان ہی اتحادیوں کی مرہون منت ہے اگر یہ تمام تر اتحادی عوامی مسائل پر سنجیدگی کا مظاہر کریں گے تو ہی مسائل حل کی جانب گازمزن ہوسکیں گے۔ ایم کیو ایم کو یاد رکھنا ہوگا کہ اب ان کا کراچی کے مسائل پر کڑ ا امتحان ہوگا۔