وزیر اعظم کا عزم انصاف کا بہتر نظام

62

محمد اکرم خالد
وزیر اعظم عمران خان نے ہزارہ موٹر وے کا افتتاح کرتے ہوئے خطاب کیا جس میں وزیر اعظم کافی مایوس، ناراض اور بوکھلاہٹ کا شکار نظر آئے۔ خان صاحب کا خطاب تو جارحانہ تھا مگر اس میں مایوسی کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس تقریر میں خان صاحب کا انداز ایسا تھا جیسے کسی بچے سے اُس کا کھلونا چھین لیا گیا ہو اور وہ اس کی شکایت با اثر افراد سے کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس تقریر میں غریب عوام کو ہمیشہ کی طرح نظر انداز کرتے ہوئے مخالفین کو پوری شدت کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، بظاہر یہ وزیر اعظم کے منصب کا خطاب نہیں تھا کیوں کہ خان صاحب نے اپنے روایتی انداز میں اپوزیشن کی خوب چھترول کی، مولانا صاحب شہباز شریف بلاول کو بھرپور انداز سے غیر پارلیمانی الفاظ سے نوازہ۔ اور ساتھ ہی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی نظام پر بھی سوالیہ نشان لگائے۔
یہ اس ملک و قوم کی بد بختی رہی ہے کہ ہر برسر اقتدار نے اس ملک کے قومی اداروں کو اپنی غلامی پر مجبور کرتے ہوئے ان کی ساکھ کو نقصان پہچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جس کی وجہ سے ادارے بہتر نظام سے محروم رہے۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام کئی برسوں سے سیاستدانوں کی نااہلی کے سبب درست سمت پر گامزن نہیں ہوسکا جب سیاستدانوں کے حق میں فیصلہ آئے تو عدالتیں آزاد قرار دی جاتی ہیں اور جب فیصلہ خلاف آجائے تو عدالتی نظام کو متنازع بنا دیا جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں عدالت عالیہ لاہور کا میاں نواز شریف کے حق میں فیصلہ یقینا ن لیگ کے لیے یہ ایک بڑا عدالتی ریلیف تھا جس کی بنیاد پر میاں صاحب علاج کے لیے لندن روانہ ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ اس فیصلے سے یقینا تحریک انصاف کو مایوسی کا سامنا ہوا ہے جس کا اندازہ وزیر اعظم کی جذباتی تقریر سے با آسانی لگا یا جاسکتا ہے۔ یقینا تحریک انصاف کے کرپشن کے بیانیہ کو اس فیصلے سے وقتی نقصان ضرور ہوا ہوگا جس کی ذمے دار ہماری نظر میں خود تحریک انصاف کی قیادت ہے۔ میاں صاحب کو نیب کی حراست سے جب اسپتال منتقل کیا گیا اور جب ان کی طبیعت کو غیر سنجیدہ لیتے ہوئے وزراء کی جانب سے غیر ذمے دارانہ، غیر اخلاقی بیانات دے کر سیاست کی جارہی تھی جس پر خان صاحب بھی لطف اندوز ہورہے تھے اگر اُس وقت میاں صاحب کی طبیعت کو سنجیدہ لیا جاتا اور ان کو حقیقی معنوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیرون ملک علاج کے لیے خود حکومت کی جانب سے روانہ کیا جاتا تو کوئی دو آراء نہیں کہ تحریک انصاف اور خاص کر خان صاحب کے سیاسی قد میں بے پناہ اضافہ ہوتا۔ مگر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میاں صاحب کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کا حکومتی دعویٰ عدالتی فیصلے کے بعد عوام کی نظر میں مسترد ہوگیا ہے۔ یقینا میاں صاحب اپنے سیاسی کیرئیر کو سامنے رکھتے ہوئے مکمل علاج کے بعد واپس وطن تشریف لائیں گے، البتہ واپسی کے عمل میں تاخیر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس بات پر حکومتی حلقے بھی مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعظم کا عدالتی نظام میں غریب عوام کے لیے ریلیف کا درد شاید سنجیدہ ہے یقینا وزیر اعظم اپنے ڈیرھ سالہ اقتدار میں غریب عوام کو کافی حد تک مایوس کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ گیس، بجلی، اشیائے ضرورت کی مہنگائی نے غریب عوام کی چیخیں نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے کفایت شعاری کا اس قوم سے جو مذاق کیا گیا ہے وہ یہ قوم دیکھ رہی ہے کہ روز بروز ارکان پارلیمنٹ وزراء کو جن مراعات سے نوازہ گیا ہے اس نے کفایت شعاری اور وی آئی پی کلچر بڑ ے بڑے پروٹوکول کے خاتمے کا جنازہ نکل دیا ہے۔
اگر آج وزیر اعظم واقعی عدالتی نظام کی بہتری پر سنجیدہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ انصاف کا معیار اشرافیہ اور غریب عوام کے لیے برابری کا ہو تو شاید یاد ہو کہ جس طرح خان صاحب نے اپنے منصب کا استعمال کرتے ہوئے اپنے دور اقتدار میں کئی بھارتی شہریوں کو پاکستانی جیلوں سے آزاد کرانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے آج یہ قوم وہی کردار پاکستانی جیلوں میں قید سیکڑوں بے گناہ قیدیوں کے لیے بھی دیکھنا چاہتی ہے۔ اب وزیر اعظم عمران خان کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ پاکستان بھر کی جیلوں میں وہ قیدی جو ناجائز طور پر یا جو چھوٹے چھوٹے جرائم کی بنیاد پر عدالتی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے برسوں سے جیلوں میں قید ہیں جن کو اگر یہ کہا جائے کہ اب وہ بے گناہ طور پر قید کی سزا بھگت رہے ہیں تو شاید غلط نہ ہوگا ان کی فوری صدارتی حکم پر رہائی کے لیے اقدامات کیے جائیں صدارتی حکم پر اس لیے کہ جب صدارت آرڈیننس کے تحت بل پاس کیے جاسکتے ہیں تو پھر بے گناہ قید پاکستانیوں کے لیے صدارتی حکم کا استعمال کیوں نہیں کیا جاسکتا اس اقدام سے عدالتوں کو بھی ریلیف حاصل ہوسکتا ہے۔ اور گزشتہ روز کی وزیر اعظم کی تقریر اشرافیہ اور غریب عوام میں بہتر انصاف کی فراہمی میں بھی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حکمران سیاسی اختلافات سیاسی انتقام سے ہٹ کر روز آخرت کا خوف رکھتے ہوئے اپنے ملک و قوم کے بہتر نظام اور ترقی و خوشحالی پر اپنا سنجیدہ کردار ادا کریں تو کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز انصاف کے بہتر نظام ترقی و خوشحالی کی راہ پر با آسانی گامزن ہوسکتا ہے۔