عوامی مزاحمتی تحریکیں اور اسلامی انقلابی جدوجہد

91

جاوید اکبر انصاری
۲۰۱۹ اور اس سے کچھ پہلے سے کئی سرمایہ دارانہ ممالک، فرانس، ہانگ کانگ، چلی، عراق، سوڈان، لبنان Caledonia میں عوامی مزاحمتیں جاری ہیں۔ یہ تحاریک کم از کم وقتی طور پر سرمایہ دارانہ نظام کو کمزور کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ دور حاضر میں غلبہ دین کی جدوجہد کا نہایت اہم ہدف سرمایہ دارانہ نظام انہدام ہے لہٰذا اسلامی انقلابیوں کے لیے ان مزاحمتی تحاریک کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔
ان مزاحمتی تحریکوں کی خصوصیات: یہ تحاریک مخصوص سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف رد عمل کے طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ ظلم یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ آرڈر کے تحت بسنے والے ہرفرد کو اپنی تمام نفسانی خواہشات کے پورے کرنے کے مساوی مواقع اور حقوق نہ فراہم کیے جائیں اور سرمایہ دارنہ معاشروں (civil society) میں ایسے ’’مظلومین‘‘ کی بہت بڑی اکثریت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔
یہ ’’مظلومین‘‘ عام حالات میں سرمایہ دارانہ ظلم برداشت کرتے رہتے ہیں لیکن ان میں ایسے جتھے ہمیشہ موجود رہتے ہیں جو عوام کو ظلم کے خلاف مزاحمت پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ دھیرے دھیرے سرمایہ دارانہ حقوق اور وسائل سے محرومی کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے اور یکایک ’’مظلومین‘‘ سرمایہ دارانہ جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
لاوا پھٹنے کا وقت کب آتا ہے اس کی پیش گوئی آج تک کوئی نہیں کرسکا۔ مزاحمتی تحاریک جب اٹھتی ہیں تو جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی جاتی ہیں اور ’’مظلومین‘‘ کے مطالبات وسیع سے وسیع ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً فرانس کی تحریک جو محض توانائی کے ٹیکسوں کے خلاف احتجاج سے شروع ہوئی آج میکرون کی برطرفی، دولت ٹیکس (wealth tax) کے اجرا، عوامی استصواب رائے (referendum) پینشنوں میں اضافہ وغیرہ کا مطالبہ کررہی ہے۔ اسی طرح ہانگ کانگ کی تحریک ایک قانون کی تنسیخ سے بڑھ کر آج ہانگ کانگ کی چین سے مکمل آزادی کی طالب ہے۔
یہ تحریکیں دیرپا ہوتی ہیں۔ فرانس اور ہانگ کانگ دونوں جگہ دوسال سے زیادہ عرصے سے جاری ہیں اور اپنی کامیابی کے عدم امکان کو سہارنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ مزاحمتی کارکن بہت بڑے پیمانے پر قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ عراق میں تقریباً ۴۰۰ مظاہرین کو قتل کیا جاچکا ہے۔ فرانس کی پولیس بہیمانہ تشدد پر اتر آئی ہے Caledonia میں ہزاروں کارکن مقید ہیں اور پوری قیادت عمر قید کی سزا برداشت کررہی ہے۔ لیکن مزاحمتی عمل جاری ہے۔ ان تحاریک میں شامل ایک ایسی اکثریت ہے جو ماضی میں مزاحمتی عمل سے لاتعلق رہتی تھی۔ اس میں چھوٹے دکاندار، طالب علم اور نچلے درجے کے ماہرین (ڈاکٹر، انجینئر، وکیل) شامل ہیں اور قیادت انہی افراد کے ہاتھ میں ہے اور گوکہ منظم مزدوروں، ہاریوں اور مستضعفین کی شرکت مزاحمت میں برائے نام ہے لیکن تحریک کی عوامی مقبولیت تمام حلقوں میں بڑھتی جارہی ہے۔ یہ تحریکیں دستوری تناظر ہی میں برپا کی جاتی ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے یہ دستوری جکڑ بندیوں کو پھلانگ جاتی ہیں۔ نظریاتی اعتبار سے یہ تحریکیں لبرل ہیں۔ لہٰذا اس نوعیت کی جدوجہد کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ نظام اپنی وقتی کمزوریوں پر قابو پاکر ترتیبی تبدیلی کے عمل سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی جگہ (ہانگ کانگ، لبنان، سوڈان) میں ان تحاریک کی پشت پناہ سامراجی قوتیں ہوتی ہیں۔
ہم اسلامی انقلابی ہیں ہم سرمایہ داری کو جاہلیت خالصہ گردانتے ہیں اور اس کے مکمل انہدام کی جدوجہد اس وقت سے کررہے ہیں جب سے برصغیر میں سرمایہ دارانہ نظام قائم ہوا۔ انقلابی جدوجہد کئی مراحل سے گزر چکی ہے اور چونکہ انہدام سرمایہ داری کا عمل طویل المدت ہے لہٰذا نت نئے مراحل سے گرزرتی رہے گی۔ ہم حقیت پسند ہیں تصوراتی نہیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ’’انقلابی واقعہ‘‘ یعنی اسلامی ریاست کا قیام بتدریج معاشرتی اور تحکیمی تغیرات کے نتیجے میں برپا ہوتا جاتا ہے۔ ان معاشرتی تحکیمی تغیرات پر بڑی حد تک اسلامی انقلابیوں کی کوئی گرفت نہیں ہوتی۔ اسلامی انقلابی عمل ان تغیرات سے فائدہ تو اٹھا سکتا ہے ان کو مہمیز تو دے سکتا ہے لیکن ان کو ظہور نہیں دے سکتا۔ انقلابی ماحول کب پیدا ہوگا اس کا نہ پہلے سے تعین کیا جاسکتا ہے نہ اسلامی انقلابی قوتیں انقلابی ماحول برپا کرسکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق انقلابی ماحول سے مراد یہ ہے کہ کسی ملک کے دوفیصد عوام (یعنی پاکستان میں تقریباً ۴۲لاکھ افراد) انقلابی قوتوں کے ممد ومعاون بن جائیں۔ لبرل مزاحمتی تحریکوں کو اس درجے کی حمایت طویل عرصے تک میسر رہی ہے۔
سرمایہ دارانہ مزاحمتی تحریکوں سے اسلامی انقلابی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اخوان کو 2011-2012 میں اس کا وسیع لیکن تلخ تجربہ ہوا۔ جب ہم نے اسلامی حکومت قائم کی (اور اسلامی حکومت کا قیام اسلامی ریاست کی تعمیر کا محض ایک مرحلہ ہے) تو دہریوں نے فوج اور سامراج اور سعودی عرب کی مدد سے ہمارے ہزاروں کارکنوں کو شہید کردیا اور عوام خاموش رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مصری عوام اسلامی جذباتیت سے سرشار نہ تھے۔ ہماری اس ناکامی کے سبب مصر میں اتحاد اسلامی کا فقدان رہا بہت سے مبینہ اسلامی گروہوں نے اخوان کا عسکری مقابلہ کیا۔ بہت سے دہریوں کے آلہ کار بن گئے اور مسلمانوں کا سواد اعظم نے اس کشمکش سے مکمل لاتعلقی کا رویہ اختیار کیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم مخلصین دین کو منظم نہ کرسکے، مزاحمت کے دوران اقتداری قوت مصری فوج اور نوکر شاہی کے ہاتھ سے نکل کر مخلصین دین کی عوامی صف بندی کی طرف منتقل نہ ہوئی اور جب دہریوں نے ہم پر حملہ کیا تو ہم بالکل بے بس، لاچار اور نہتے تھے۔
ان تجربات سے ہمیں حسب ذیل سبق حاصل کرنے چاہئیں۔
۱۔ ہمیں ہر اس جدوجہد کا ساتھ دینا چاہیے جو کسی سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف برپا کی جائے کیونکہ یہ جدوجہد لامحالہ وقتی طور پر سرمایہ دارانہ نظاماتی جدوجہد کو کمزور کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔
۲۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ مزاحمت کی قیادت اسلامی ہو۔
۳۔ ہمیں مزاحمت کے دوران اپنی اساسی انفرادیت کو اجاگر کرنا چاہیے اور دہریہ گروہوں کی Legitimacy کو مستقل چیلنج کرتے رہنا چاہیے۔ یہ دہریہ گروہ عموماً ایک قلیل اقلیت ہوتے ہیں (پاکستان میں) اور ان کی مقبولیت کی بنیاد ان کی مواصلاتی دسترس پر منحصر ہوتی ہے۔ دہریہ مواصلاتی نظام کو تتربتر کرنا ہمارے اہداف میں شامل ہونا چاہیے۔
۴۔ مزاحمت کا ثقافتی رنگ خالص اسلامی ہو، دھرنوں اور مظاہروں میں نماز باجماعت کا خصوصی انتظام ہو۔ تلاوت قرآن مجید (بیانات و سمع کی محافل) مستقل جاری رہیں۔
۵۔ اس بات کا احساس شروع ہی سے ہونا چاہیے کہ مزاحمت کسی نہ کسی مرحلہ میں دستوری جکڑ بندیوں کو لازماً چیلنج کرے گی۔ ان جکڑ بندیوں کو ڈھیلا کرنا مزاحمت کی کامیابی کا ضامن ہے۔ حکومت کی خفیہ ایجنسیاں دستور اور قانون کے ماورا ہی کارفرما رہتی ہیں (صرف پاکستان ہی میں نہیں امریکا تک میں یہ بات درست ہے) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دستوری جکڑبندیوں کو ڈھیلا کرنے کو برداشت کرنے کو سرمایہ دارانہ مقتدرہ کو مجبور کیا جاسکتا ہے۔ سرمایہ دارانہ قانون کو مقدس سمجھنے کا کوئی شرعی جواز موجود نہیں ۔
۶۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مزاحمت دھرنوں اور مظاہروں تک محدود نہ رہے۔ مزاحمتوں کے شرکاء کو اپنے مقامی محلہ کی سطح پر مستقل بنیادیوں پر منظم کرنے کی طویل المدت منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔
صف بندی مسجد کی بنیاد پر کی جائے اور اس کا دائرۂ کار، مزاحمت کے شرکا کے مقامی اقتدار کو بڑھانا اور قیادت قائم کرنا ہو، ہر دھرنا مہم اور احتجاج کے بعد آئندہ اقدام کی منصوبہ بندی ہو اور مزاحمت کا نکتہ عروج کسی ایسے ملک گیر واقع پر منتج ہو جو سرمایہ دارانہ نظام اقتدار کو کسی نہ کسی حد تک مجروح کردے۔