ایک ساتھ تین طلاقیں دینا جرم نہیں ہے آخری قسط

102

ڈاکٹر نواب احمد
زیادہ تر صورتوں میں بچوں پر مصائب کی وجہ ماں کا بچوں کو اپنی تحویل میں رکھنا ہوتا ہے۔ موصوف ہی کی بات نوٹ کیجیے: ’’خواتین اور بچے بری طرح متاثر ہوتے ہیں‘‘۔ جب عورت خود ہی معاشی مصیبت میں گرفتار ہو، پھر وہ بچوں کو بھی اپنی تحویل میں رکھنے کی ضد پر اتر آئے تو ان بچوں کی پرورش اور ان کے مستقبل کا بری طرح متاثر ہونا فطری بات ہے۔ یہاں سارا قصور عورت کا ہے، عدالت کا ہے، مفتیان کا ہے۔ (قرآن کی رو سے چائلڈ کسٹڈی پہلے دن سے باپ کی ہوتی ہے۔ صرف شیر خوار گی کی مدت میں وہ بچے کو ماں کی نگہداشت میں رکھے گا اور اسے اس نگہداشت کی اجرت ادا کرنی ہوگی)
مجموعی طور پر بچوں پر مصائب کا تعلق فعلِ طلاق سے نہیں بلکہ طلاق کے بعد سابقہ زوجین کے بچوں کی جانب حقوق و فرائض سے ہے۔
(6) 21 جنوری 2015 ڈان نیوز اردو، رپورٹر عرفان طارق: ’’کونسل کے چیئرمین محمد خان شیرانی نے دو مہینے سے جاری اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تین طلاقیں تین مختلف اوقات میں دی جا سکتی ہیں، اس لیے اسے جرم قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم بیک وقت ایسا کرنے والے کے لیے سزا متعین کرنے کا اختیار عدالت پر چھوڑ دیا ہے‘‘۔
تین طلاقیں تین مختلف اوقات میں (ہی) دی جاسکتی ہیں، یہ بیان نہ کہیں قرآن میں ہے اور نہ ہی کسی حدیث میں موجود ہے۔ پھر ایک وقت میں تین طلاقوں کے مقدمات نبیؐ کے سامنے پیش ہوتے رہے اور آپؐ نے یہ کبھی نہیں کہا کہ تین طلاقیں صرف مختلف اوقات ہی میں دی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا محمد خان شیرانی کا دعویٰ صراصر غلط بیانی ہے۔
(7) محمد خان شیرانی نے اپنے چند رفقاء کی تاویل کی بنیاد پر عمر فاروقؓ ان کے عہد کے مفتی صحابہ عثمان و علیؓ کے دور کے مفتی صحابہ، ائماء اربعہ جیسے اکابرین کے فیصلوں کو غلط قرار دیدیا ہے۔ اور صدیوں کی اقلیتی رائے کو ملک کا قانون بنانا چاہتے ہیں۔ جس ملک میں مذاہبِ اربعہ پر عمل کرنے والوں کی غالب اکثریت ہو وہاں ایسا کرنا (اپنے نکتہ نظر کو قطعی طور پر ثابت کیے بغیر) کیا علمی اور قانونی لحاظ سے درست ہوگا؟
(8) بقول شیرانی صاحب: کونسل نے سزا متعین کرنے کا اختیار عدالت پر چھوڑ دیا ہے۔ اس صورت میں مختلف جج اپنی صوابدید پر مختلف سزائیں سنائیں گے۔ جب جرم کی نوعیت ایک ہی ہو تو کیا کسی مجرم کو کم، دوسرے کو زیادہ، اور تیسرے کو اور بھی زیادہ سزا دینا انصاف ہوگا؟
(9) 6 ستمبر 2019، اخبارِ جنگ: ’’اسلامی نظریاتی کونسل نے بیک وقت تین طلاقیں قابلِ سزا قرار دینے کی سفارش کردی۔ پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے میراث اور طلاق کی شیعہ اور سنی مسالک کے مطابق قانون سازی کی حمایت کردی۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ بیک وقت تین طلاقوں کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کا کوئی حوالہ ملا تو قانون سازی کرسکتے ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل بیک وقت تین طلاقیں قابلِ سزا ہونے کی تصدیق کرے گی تو قانون سازی کی جانب بڑھیں گے‘‘۔
وزیرِ قانون فروغ نسیم صاحب کے ریمارکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے نمائندوں (جو قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک تھے) نے نہ تو بیک وقت تین طلاقوں کے قابلِ سزا ہونے کا کوئی حوالہ دیا، اور نہ ہی اس فعل کے قابلِ سزا ہونے کی کسی اور بنیاد پر تصدیق کی۔ کیا کونسل کی یہ کارکردگی علمی لحاظ سے اطمینان بخش ہے؟
(10) نبیؐ کریم کے زمانے میں بیک وقت تین طلاقوں کے مقدمات پیشی ہوتے رہے اور آپؐ نے کسی بھی شخص کو ایسا کرنے پر کوئی سزا نہیں دی۔ اگر آج سزا دینے کا فیصلہ درست مانا جائے تو کیا اس سے اللہ کے رسول کا فیصلہ (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) غلط ثابت نہیں ہوتا؟ پھر آج سزا دینے کا جواز عورتوں اور بچوں پر کمر توڑ دینے والا ظلم قرار دیا جارہا ہے۔ تو کیا اس سے اللہ کے رسولؐ پر یہ الزام نہیں آتا کہ انہوں نے (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) اسلامی خاندانی نظام میں عورت اور بچوں پر شدید ظلم کا کوئی نوٹس نہیں لیا، ان کو نظر انداز کیا، اور مرتکبین کو سزا نہ دے کر ظلم کی حمایت کی؟ اس طرح انہوں نے (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) مسلمانوں کو بیوی اور بچوں پر ظلم ڈھانے اور ان کی زندگیوں کو برباد کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی؟ کیا اس سے عالمی سطح پر اسلامی نظام عورتوں اور بچوں کے حق میں پچھلے چودہ صدیوں سے جاری ایک ظالمانہ نظام قرار نہ پائے گا؟
نوٹ: یہ کالم اس قدر طویل ہوگیا ہے کہ قرآن و حدیث کے مباحث اب علیحدہ مضامین میں شائع ہوں گے۔