قومی گیمز ،صوبائی ٹیمیں اختلافات لئے آج پشاور پہنچیں گی

28

کراچی (سید وزیر علی قادری) 33ویں قومی کھیل کا افتتاح کل وزیر اعظم قیوم اسٹیڈیم میں کرینگے۔ اس سلسلے میں منتظمین نے تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں جبکہ آج ریہرسیل ہوگی۔ ملک کے تمام صوبوں اور محکموں کی ٹیمیں میگا ایونٹ میں شرکت کرینگی ۔ 7روز صوبہ خیبر پختون خوا کا دارلحکومت پشاور میزبانی کا اعزاز حاصل کرے گا۔ قومی کھیلوں میں شرکت کے لیے صوبہ بلوچستان کا دستہ کوئٹہ اور سندھ کی مختلف ٹیمیں کراچی سے روانہ ہوئیں اور آج پشاور پہنچیں گی۔ ٹرینوں میں اکنامی کلاس میں سفر کرنے والے کھلاڑیوں نے دوران سفر پیش آنے والی مشکلات کا شکوہ کیا وہیں کئی ایسوسی ایشنز نے صوبائی اولمپک ایسوسی ایشنز پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اختیارات کا فائدہ اٹھاتے ہویے کپتان کی انصاف پر مبنی حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے ہویے میرٹ کو نظر انداز کرکے اقرباپروری کا مظاہرہ کیا اور من پسند کھلاڑیوں کا چنائو کیا۔ یہ ہی نہیں کئی روز تک ٹریننگ کیمپس میں مشقیں کرنے والے کھلاڑیوں کی حق تلفی میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی گئی اور ٹرینرز اور سلیکشن کمیٹی کی منتخب ٹیموں میں جو کھلاڑی میرٹ پر آئے تھے آخری وقت میں جب ٹرین روانہ ہونے والی تھی کئی کھیلوں کی ٹیموں میں ردوبدل کردیا گیا۔ اس موقع پر سندھ کی ٹیموں میں جگہ نہ پانے والے کھلاڑیوں نے سٹی اسٹیشن کراچی میں بھرپور احتجا ج کیا اور وہاں موجود صوبائی اسپورٹس ذمہ داروں کو شکایت ریکارڈ کرائی۔ دوسری طرف جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے روانہ ہوکر جب سبی پہنچی تو ایک کھیل کی ایسوسی ایشنز کے کھلاڑیوں کی سیٹیں ریسور ہی نہیں کرائی گئیں اور کھلاڑی کھڑے ہوکر سفر کرنے پر مجبور ہویے۔ واضح رہے 33قومی کھیل مختلف نوعیت کے مسائل کی وجہ سے کئی مرتبہ ملتوی ہویے اور بالاخر ان کا انعقاد اب یقینی نظر آرہا ہے۔ 26اکتوبر سے یکم نومبر شیڈول کھیلوں کے مقابلے اس وقت ملتوی کرنے پڑے تھے جب ایک سیاسی پارٹی نے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا۔ دریں اثنا شائقین کھیل نے کھیلوں کا افتتاح مذہبی تہوار کے روز رکھنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس کو قابل ستائش اقدام نہیں دیا جارہا۔ جبکہ منتظمین نے اپنے اعلان اور موقف کا دفاع کرتے ہویے اسے دنیا میں سافٹ امیج کے طور پر ملک کو اجاگر کرنے کی راگ ا لاپی ہے۔