مدارس اسلام کے قلعے اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں،حسین محنتی

46
کراچی: امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی قبا آڈیٹوریم میں مدارس کے مہتممین کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں
کراچی: امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی قبا آڈیٹوریم میں مدارس کے مہتممین کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

کراچی( اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے امیر و سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی نے کہاہے کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں۔یہ دین کی فیکٹریاں ہیں جس کے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ ادارے مغرب امریکا اور اسلام دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ جس کام کی جتنی اہمیت ہوتی ہے پھر اس کی مخالفت بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ باب الاسلام سندھ سمیت اہل پاکستان اغیار کے اشاروں پر حکمرانوں کی دینی مدارس کے خلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قبا آڈیٹوریم میں جماعت اسلامی سے وابستہ بڑے دینی مدارس کے مہتممین و ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔اس موقع پر صوبائی نائب امرا و نگران شعبہ مدارس عبدالغفار عمر، حافظ نصراللہ عزیز، مولانا آفتاب ملک اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا بھی موجود تھے۔ سندھ بھر سے شریک ذمے داران نے مدارس کی تعلیمی و انتظامی صورتحال مشکلات اور آئندہ کے منصوبوں سے صوبائی امیر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ دینی مدارس و علما کرام نے ہی اصلاح معاشرہ اور دین کے مشن کو آگے بڑھایا ہے۔ ہر مدرسے کا استاد دین کا سپاہی اور مبلغ ہے۔صوبائی امیر نے زور دیتے ہوئے کہاکہ دینی مدارس کے طلبہ کو قرآن و سنت کی تعلیم کے ساتھ کمپیوٹر سمیت دور جدید کی تعلیم اور ٹیکنالوجی سے مسلح کیا جائے۔دینی مدارس کے اثرات پڑھنے پڑھانے کے علاوہ معاشرے کے اردگرد اور بچوں کے والدین پر پڑنے چاہئیں۔