انصاف کہاں ہے؟؟

83

شہلا خضر
کچھ گزر گئے کچھ اور گزر جائیں گے… یہ دن، ماہ وسال اور پھر سب کی یاد داشت سے یہ جھلستی ٹرین۔ یہ لپکتے شعلے۔ یہ کوئلہ بنی اکڑی لا شیں۔ یہ سسکتے تڑپتے نیم بسمل انسان یہ سب محو ہو جائے گا۔ کمیٹیاں بنیں گی، تبصرے کیے جائیں گے، الزامات کی بوچھاڑ، ٹاک شوز پر گرما گرم مباحثے۔ مخالفین کا ایک دوسرے پر الزام تراشیاں۔ سب کچھ حسب روایت ہی ہو رہا ہے۔ کچھ بھی نیا نہیں لگ رہا۔ بالکل کسی نشر مکرر پروگرام کی طرح ہے۔ ہر حادثہ اور اس کے بعد کی کاروائی سیاسی پارٹیوں اور نیوز چینل والوںکے لیے بیچنے کا چورن ہی بن جاتی ہے۔ رحیم یار خان ٹرین کے اندوہناک حادثے میں 74 قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد حکومت مخالف پارٹیاں محکمۂ ریلوے اور وزیر ریلوے کو مجرم ثابت کرنے کے محاذ پر ڈٹ گئیں اور حکومت کے حامی عوام کی غفلت اور لا پروائی کا رونا روتے نظر آئے۔ یہ سچ ہے کہ ہمارا ریلوے کا پورا نظام انتہائی ناقص اور ناگفتہ بہ ہے۔ خستہ حال ٹرینیں، سہولتوں کا فقدان اور سیکورٹی صفر۔ کوئی بھی ریلوے کے سفر کو اولین ترجیح نہیں دیتا، ہاں اگر مجبوراً جانا پڑ جائے تو وہ الگ بات ہے۔
المناک حادثے کے فوراً بعد بغیر کسی ٹھوس شواہد کے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا فوری بیان دینا جس میں وہ حادثے کا پورا الزام تبلیغی جماعت کے مسافروں پر لگا رہے ہیں اور گیس سلنڈر کو آگ لگنے کا سبب بتا رہے ہیں کسی بھی طور ذمے دارانہ اقدام نہیں ہے۔ کم ازکم مکمل تحقیقاتی رپورٹ کے آنے سے پہلے ایک ذمے دار عہدے پرفائز حکومتی نمائندے کو بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ تاریخی انکساری دکھاتے ہوئے گیس سلنڈر کی چیکنگ نہ کرنے کو فورع طور پر اپنی غلطی تسلیم کر لینا بھی معنی خیز ہے۔ دوسری طرف ہمارے سادہ لوح عوام میں بھی اچھے شہریوں کی طرح کسی قسم کا احساس ذمے داری نظر نہیں آتا۔ سفر کے دوران ریل کے ڈبے میں بڑے بڑے گیس سلنڈر رکھ کر اسٹوو پر آگ جھلانا، جبکہ اس ڈبے میں ایسا پلانٹ نصب ہے بجلی کے تار یں، گیس کے کنکشن سب ہے اگر نہیں ہے تو پانی نہیں ہے وہی نایاب ہے۔ کیا تبلیغی جماعت کو لے جانے والے گروپوں کی یہ ذمے داری نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھ چلنے والے افراد کو سفر کے دوران پیش آنے والے مسائل کے متعلق آگاہی دیں۔ اتنے بڑے سفر میں آپ گھروں سے لوگوں کو نکال کر لے جاتے ہیں تو آپ کا فرض بنتا ہے کہ انہیں بنیادی ٹریننگ دے کر گھروں سے نکالیں، اور اگر آپ میں اتنی اہلیت موجود نہیں کہ آپ اتنے بڑے مجمع کو منظم اور بحفاظت سفری سہولت فراہم کریں تو آپ خود پر اور دوسروں کے باپ بھائیوں اور بیٹوں پر رحم کریں اور کوئی دوسرا ذریعہ اپنائیں۔ اس سے پہلے بھی سیکڑوں حادثات ٹرینوں گاڑیوں، بسوں اور ٹرالروں کے ہو چکے ہیں جس میں چھوٹی سی غفلت لاکھوں جانے لے گئی۔ ان میں بہاول پور کا آئل ٹینکر کا حادثہ اور ٹرین کی بوگیوں کا صادق آباد میں الٹنا سر فہرست ہے۔ کون انصاف دلوائے گا ان 74 بے گناہوں کو…
کیا حکومت وقت اپنے محکمۂ ریلوے کے خلاف شفاف اور حقیقی تحقیقات کروائے گی؟؟ کیا وزیر ریلوے سنگین حادثے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے رضا کارانہ طور سے استعفا دیدیں گے؟؟ کیا محکمہ ریلوے اعتراف کرے گا کہ ان کا نظام نہایت بوگس اور سیکورٹی انتظامات ناقص ہیں؟؟ کیا تبلیغی جماعت لے جانے والے گروپوں کو ضروری ٹریننگ نہ دینے کی اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے؟؟ شاید ان تمام سوالوں کے جواب نفی میں ملیں کیونکہ ہمارے اجتماعی ضمیر مر چکے ہیں۔ سچ بولنا۔ سچ کا ساتھ دینا۔ سچ کا سامنا کرنا۔ اور ایمانداری سے اسے قبول کرنا یہ سب خواب وخیال بن چکا ہے۔اسی لیے ربّ کائنات نے مکمل اور حتمی انصاف آخرت میں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسان بے حد بے صبرا، ناشکرا۔ جلد باز اور جھگڑالو ہے۔ جس ربّ نے پیدا کیا لاکھوں نعمتوں سے نوازا اسی کو فراموش کر کے بغاوت پر اتر آتا ہے، سورۃ البقرہ میں آیت نمبر 281 ’’اس دن کی رسوائی سے بچو جس دن تم اللہ کی طرف واپس ہو گے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ظلم ہرگز نہ ہو گا‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن پاک میں متعدد مقامات پر آخرت میں انصاف دینے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن کیا ہی اچھا ہو اگر ہم بھی دنیا کی اس امتحان گاہ میں انصاف اور سچائی کا ساتھ دیں اور اخروی کامیابیاں اپنے نامۂ اعمال میں لکھوا لیں۔