درست سمت قدم اٹھائیے

251

نزہت منعم
پاکستانی قوم بھی کیا قوم ہے خطرات اور اندیشوں میں گھری قوم، زندہ رہنے کی جدوجہد کرتی قوم، مر مر کر جینے والی قوم بہتر برسوں سے اس قوم کے خوابوں کو اتنی دفع چکنا چور کیا گیا کہ اب ریاست سے امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ حالیہ تبدیلی کے نعروں اور عمران خان کی شخصیت اور ریاست مدینہ کے خواب نے قوم کو ایک بار پھر سرشاری میں مبتلا کردیا۔ سیانے اس وقت بھی اندیشوں کا نہیں بلکہ یقین کامل کے ساتھ اعلان کررہے تھے کہ جس تبدیلی کے خواب دکھائے جا رہے ہیں وہ اس طرح نہیں آسکتی۔ کیا ریاست مدینہ بنانے والے بلند و بالا پر فضا مقام پر جا بیٹھے تھے؟ ریاست مدینہ کی طرف سفر کے لیے ’’براق‘‘ کو چنا تھا؟؟ (جبکہ ایسا کرنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں تھا)۔ وہاں پیٹ پر ایک پتھر کے مقابلے میں دو پتھر اور دو کے مقابلے میں تین پتھر تھے۔ وہاں ایک سواری پر سفر کے لیے آقا اور غلام کی باری تھی۔ بس یہی کچھ اصول ہیں جن کی بنیاد پر فیصلہ کرنا آسان ہے۔ مگر قوم کی معصومیت کہ ہر بار کسوٹی کو پرے پھینک کر زبانی دعوں پر یقین نتیجہ کچھ ہی ماہ میں حاضر ہے۔ جس قوم نے چنا، جس نے اعتماد کیا، سر آنکھوں پر بٹھایا اسے چور قوم، لٹیرا قوم، سب سے کم ٹیکس دینے والی قوم کے لیبل لاد کر پوری دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ حضور والا یہ بھول گئے کہ ریاست کے والیوں نے اس قوم کو کیا دیا؟ بہتر سال سے بہتری کی آس لگانے والی قوم کو ہر گزرتے برس ابتر حالات ہی کا سامنا رہا۔ جو جتنا با اختیار وہ اتنا ذمے دار۔
طاقت کے مراکز کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ انہوں نے دانستہ اس قوم کو قوم بننے ہی نہیں دیا۔ نفرتوں اور فرقوں کی آگ میں جھونکا۔ لسانی عصبیتوں کے بت دلوں میں بسائے اور نسلوں کو اس کا ایندھن بنایا۔ جہالتوں کے اندھیرے میں رکھا تاکہ آپ کی چالاکیاں سمجھ کر سر نہ اٹھا سکیں۔ آئیے اس ٹیکس چور قوم کے کارنامے آپ کو گنواتے ہیں۔
صحرائے تھر کے ریگزاروں سے لے کر خیبر کی چٹانوں تک یہ قوم اپنے پیسوں سے عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، خوراک، لباس فراہم کررہی ہے۔ آپ شاید بھول گئے اس قوم ہی نے آپ کو شوکت خانم کا مالک بنایا۔ یہی ’’ٹیکس چور‘‘ قوم ہے جو بجلی نہ ہونے کے باوجود ہزاروں روپے کا بل بھر رہی ہے اور یہی قوم لمبی قطاروں میں لگ کر پانی کے چند ڈول حاصل کر پاتی ہے یا پھر زیر زمین پانی پر انحصار کرتی ہے۔ انفرا اسٹرکچرکی حالت کسی جنگ زدہ علاقے کی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ قدرتی آفات میں امداد و متاثرین کی بحالی صحت و صفائی، تعلیم، روزگار، خوراک رہائش اور شادی بیاہ سب کچھ اپنی مدد آپ کے تحت ہورہا ہے لہٰذا یہ قوم تو ہے ہی فلاحی قوم لیکن یہاں حوالہ صرف فلاحی ریاست کا نہیں ہے بلکہ یہاں نام لیا جا رہا ہے مدینے کی ریاست کا۔ مدینے کی ریاست میں پردے کا حکم نازل ہوا تو جو خاتون جہاں تھیں وہیں رک گئیں جب تک کہ اپنے لیے مکمل حجاب کا انتظام نہیں کرلیا یعنی ایک قدم بھی اس حکم کی نافرمانی میں اٹھانا گوارا نہ کیا۔
ریاست مدینہ کے خواب دکھانے والے تعلیمی اداروں میں حجاب کا حکم واپس لینے پر مجبور ہوگئے۔ ہم جنرل اسمبلی میں پوری دنیا کے سامنے مسلمان خواتین کے حجاب کے حق میں آواز اٹھانے پر عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن کیا عمران خان جانتے ہیں کہ ان کے اپنے ملک میں میڈیا حجاب کے خلاف مہم چلاتا ہے اور اسے عوام کی خواہش قرار دیتا ہے۔ نامکمل لباس میں جس طرح خواتین کو میڈیا میں آج دکھایا جا رہا ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ کیا پاکستانی خواتین کا یہ لباس ہے؟ چند خواتین کی بیباکی کو ماڈل بنا کر عوام کی اکثریت کے سر پر کیوں مسلط کیا جارہا ہے؟ مدینے کی ریاست کو ماڈل قرار دینے والے اس سوال کا جواب دیں گے؟ سودی معیشت پنجے گاڑ چکی ہے، سودی قرضوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ تاثر بھی عام کیا جارہا ہے کہ اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ جبکہ ریاست مدینہ میں سود کا تصور بھی محال تھا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے کھلی جنگ ہے۔
مدینہ کی ریاست کی ایک پہچان انصاف کا نظام تھا انصاف کے کٹہرے میں حکمران وقت بھی کھڑا ہوجاتا اور قاضی کے فیصلے کو قبول کرتا۔ اس ماڈل کو اپنانے کا عزم کرنے والے عمران خان کو علم ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹائون فیکٹری، سانحہ ساہیوال سانحہ خروٹ آباد، سانحہ 12 مئی، سانحہ 5 اپریل… اور طویل سلسلے انصاف کے منتظر۔
جہاد ریاست مدینہ کا شعار تھا ہر ظلم کے خلاف جہاد، ہر مظلوم کی حمایت میں جہاد، اسلام کے خلاف سازشوں کے مقابلے کے لیے جہاد۔ آج عمران خان اسی جہاد سے دور بھاگ رہے ہیں قوم کو ڈرا رہے ہیں جبکہ دشمن ہماری سرزمین پر گولے برسارہا ہے۔ تقریباً 3 ماہ سے کشمیری مسلمانوں کو محصور کر رکھا ہے ہر قسم کا ظلم 72 سال سے جاری ہے کیا کالے غبارے چھوڑنے سے کشمیر آزاد ہو جائے گا؟ کیا بھارت آپ کی کالی پٹیوں سے ڈر کر کشمیر سے اپنی فوجیں بلوا لے گا؟ غم تو یہ ہے کہ زبانیں کچھ کہہ رہی ہیں اور عملی اقدامات ملک میں دین کو کمزور کرنے کے لیے ہو رہے ہیں۔
اس ملک کی مقتدر قوتوں کو اندازہ ہے کہ اس ملک کے عوام بے عمل سہی لیکن اسلام سے محبت کرتے ہیں مدینہ اور مدینے کے والی ان کے دلوں میں بستے ہیں جنرل اسمبلی میں عمران خان کے خطاب کو عوامی سطح پر پزیرائی بھی اسی لیے ملی کہ انہوں نے اسلام کی بات کی، مسلمانوں کی بات کی لیکن عوام کو صرف لفظوں کی چاٹ نہیں کھلائیے عملی اقدامات کیجیے۔ سب سے پہلے میڈیا کو پابند کیا جائے کہ وہ اسلامی شعائر کا احترام کرے اسلامی تعلیمات کو عام کرنے میں اپنی توانائی اور ٹیکنالوجی صرف کرے، سرکاری سطح سے سب کا مذاق اڑانے بالخصوص علماء کا مذاق اڑانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ رنجیت سنگھ کے بجائے مسلم ہیروز کو ماڈل قرار دیا جائے، این جی اوز کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے، ہر مظلوم کی داد رسی کی جائے۔ اور سب سے بڑھ کر کشمیر کے لیے بھارت کے خلاف اعلان جہاد کیا جائے آپ خود دیکھیں گے کیسے یہ قوم آپ کا بازو بن کر کھڑی ہوجائے گی اور جب نیت ٹھیک ہو قدم درست سمت میں ہوں تو ریاست مدینہ کا خواب پورا کرنا تو میرے رب کا کام ہے۔