سندھ حکومت کی 30روزہ صفائی مہم کے دوران شہر سے30فیصد کچرا بھی ا ٹھا یا نہیں جا سکا ہے،

227

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت کی 30روزہ صفائی مہم کے دوران شہر سے30فیصد کچرا بھی ا ٹھا یا نہیں جا سکا ہے، کچرا اٹھانے کے بلندبانگ دعوے دھرے رہ گئے ہیں۔صفائی مہم کے 30روز بعد بھی کراچی کی حالت جوں کی توں ہے،

تفصیلات کے مطابق کراچی کو کچرے اور گندگی سے صاف کرنے کیلئے سندھ حکومت کی صفائی مہم کو30روزمکمل ہوگئے ہیں 30روز گزرنے کے باوجود ہے شہر کی حالے تبدیل نہیں ہوسکی ہے۔

صفائی مہم کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے شہر کے مختلف علاقوں کے دورے بھی کیے لیکن اس کے باوجود آج بھی شہر کا بڑا حصہ گندگی کے ڈھیر سے اٹا ہوا ہے،کراچی تمام اضلاع میں آج بھی جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر موجود ہیں، شہر کو صاف کرنے کیلئے ایک کے بعد ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔

اس قبل وفاقی حکومت نے بھی کراچی میں صفائی کے حوالے سے مہم چلائی اور کراچی کے عوام سے لاکھوں روپے فنڈز اکھٹا کیے اس کے بعدسندھ حکومت نے 21ستمبر سے کراچی میں صفائی مہم کا آغاز کیا تھا،صفائی مہم کے باوجود شہر کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آسکی ہیں۔

لیاری کی گلیاں سیوریج کے پانی سے تباہ حال ہیں، مکینوں کیلئے گھروں سے نکلنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے، گلشن اقبال،گلستان جوہر،لیاقت آباد،اورنگی ٹاؤن،کورنگی،ملیر کالا بورڈ،لیاقت آباد،شیرشاہ،کماڑی سمیت دیگر علاقوں میں سڑک گندے پانی کا تالاب بنی ہوئی ہے۔

سندھ سرکار کی مہم کراچی والوں کو مطمئن نہیں کرسکی ہے، سند ھ حکومت کی جاری صفائی مہم کے 30دن مکمل ہو گئے ہیں، لیکن آج بھی شہر میں صفائی نہ ہونے کے برابر ہے۔

گندگی وغلاظت کے ڈھیر اپنی جگہ موجود ہیں گندگی کے سبب شہر میں بیماریاں اور وبائی امراض پھوٹنے کے ساتھ ساتھ مکھیوں اور مچھروں کی بہتات نے شہریوں کو پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

سندھ حکومت 600 ملین روپے استعمال کرکے شہر کو صرف 25 فیصد صاف کرسکی ہے، جس سے سندھ سرکار کے70فیصد کچرا اٹھانے کے دعووں کی قلعی کھل گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ کے دعووں کا بھی پول کھل گیا، کراچی سے صرف 25 فیصد کچرا اٹھایا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر کا صرف25 فیصد کچرا اٹھایا جاسکا ہے، جبکہ صفائی مہم کے دوران وزیراعلیٰ نے 70 فیصد کچرا اٹھا نے کا دعویٰ کیا تھا۔خیال رہے کہ گذشتہ دنوں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہماری کچرا مہم سے کراچی میں کافی حد تک فرق نظر آرہا ہے، 70 فیصد کچرا ان ڈسٹرکٹ سے اٹھایا جہاں سے کچرا نہیں اٹھ رہا تھا۔

مراد علی شاہ کے مطابق ڈپٹی کمشنرز سے کہا تھا جہاں کچرا نظر آئے اسے اٹھانا ہے، کئی جگہ پر کچرا ہے مگر کچھ ڈسٹرکٹ میں اٹھایاہی نہیں جارہا، 3لاکھ ٹن سے زائدکچرالینڈ فل سائٹ پر پہنچ چکا ہے۔

اطلاع کے مطابق انکے دعوے کے برعکس کچرا 15ہزارٹن آ ٹھایا گیا ہے۔کراچی کے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں کچرے کی صفائی کیلئے کسی مہم کی ضرورت نہیں بلکہ باقاعدہ ایک مؤثر اور مربوط نظام بنانے کی ضرورت ہے،

وزیر اعلی سندھ، وزیر بلدیات اور میئر کراچی صفائی مہم کے دوران فوٹو سیشن کی بجائے عملی کام کر تے تو شہر قائد کی صورتحال تبدیل ہوتی،مہم کے بجائے عملی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔