کردوں نے علاقہ خالی نہ کیا تو بڑے پیمانے پر آپریشن کریں گے، اردوان

213

استنبول:ترک صد رجب طیب اردون کا کہنا ہے کہ اگر شمالی شام سے کرد فوجیں مقررہ وقت تک نہ نکلیں تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دیں گے۔

گزشتہ روز ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ اگر منگل تک ‘سیف زون’ کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ترکی کو مجبورا ایک بار پھر فوجی کارروائی کا آغاز کرناپڑے گا ۔

واضح رہے کہ دو روز قبل امریکی نائب صدر نے مائیک پینس نے دورہ ترکی کے دوران امریکہ اور ترکی نے 120گھنٹے یعنی (5) روز کیلئے شام میں جنگ بندی پر اتفاق ہو تھا ۔ جس کے تحت کرد جنگجوؤں کو منگل تک سیف زون سے نکلنے کی مہلت دی گئی تھی۔

دوسری جانب ترک کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے تحت ترک افواج شامی علاقوں میں موجود رہیں گی ۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جنگبندی کے باوجود شام میں شمالی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کےنمائندے کا کہنا ہے کہ جمعے سے شمالی شام کے علاقے راس العین میں گولہ باری کی جارہی ہے۔

ترکی کیا جانب سے شام میں 9 اکتوبر کو فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا جسمیں ترکی چاہتا تھا کہ 32 کلومیٹر کے علاقے میں کرد اور وائی پی جی جنگجوؤں کا خاتمہ ہو تاکہ ترک سلامتی  کو خطرہ نہ ہو۔

یاد رہے کہ کرد جنگجو  کردستان ریاست کو قائم کرنےکیلئےترکی سرحد کے کئی کلومیٹر علاقے کو قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔