وائس چانسلر جامعہ اردو کی عدم دلچسپی، متعدد تحقیقی پروگرام بند

33

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی کی تعلیمی معاملات میں عدم دلچسپی کے باعث متعدد شعبوں کے تحقیقی پروگرام عملی طور پر بند ہوگئے۔ سماجی علوم سے تعلق رکھنے والے متعدد شعبہ جات مکمل انحطاط کا شکار ہیں ۔تفصیلات کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی کی سینیٹ کے رکن ڈاکٹر ریاض احمد، منتخب رکن نامزد کنندہ کمیٹی ڈاکٹر عرفان عزیز ، اکیڈمک کونسل کی رکن ڈاکٹر،فتح محمدبرفت ، رکن سنڈیکیٹ ڈاکٹر ممنون احمد خان ، ڈاکٹر اصغر دشتی ، ڈاکٹر فیصل جاوید اور دیگر نے شعبہ سندھی کے صدر شعبہ ڈاکٹر کمال جامڑو سے ملاقات کی اور انہیں شعبہ سندھی کے مسائل سے اآگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں اردو یونیورسٹی کے شعبہ سندھی کی حمایت میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد کے باوجود وائس چانسلر نے شعبہ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلے مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی تحقیقی جریدے کی اشاعت پر خرچ ہونے والی رقم کی ادائیگی کی، گذشتہ بارشوں میں گر جانے والی چھت کی از سر نو تعمیر بھی نہیں کی گئی۔اس موقع پر بیان میں ڈاکٹرعرفان عزیز نے کہا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف حسین کی جانب سے یونیورسٹی کے تعلیمی معاملات میں دلچسپی نہ لینے کی وجہ سے یونیورسٹی کے بیشتر تحقیقی پروگرام اور شعبہ جات انحطاط کا شکار ہیں۔ متعدد شعبوں میں طلبہ کو داخلے نہیں دیے گئے۔ یونیورسٹی میں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ مجموعی طور پر یونیورسٹی میں 28 پروفیسرز، 44 ایسوسی ایٹ پروفیسر، 52اسسٹنٹ پروفیسر اور128 لیکچرارز کی اسامیاں2008 سے خالی ہیں۔ موجودہ وائس چانسلر کے تحقیق دشمن اقدامات سے یونیورسٹی میں تعلیمی انحطاط قائم ہو چکا ہے اور کیمپس کو بند کرنے کی پالیسی پر عمل جاری ہے۔39 سے زائد شعبہ جات پر مشتمل یونیورسٹی میں پروفیسر حضرات کی تعداد کم ہو کر صرف 8 رہ گئی ہے۔ اساتذہ کے وفد نے یونیورسٹی سینیٹ سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی میں قائم شعبہ سندھی اور دیگر کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اساتذہ کے لیے سلیکشن بورڈ اشتہار میں درج اہلیت کے مطابق فوری طور پر منعقد کروایا جائے نیز شعبوں میں تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے پالیساں وضع کی جائیں اور مالی معاونت فراہم کی جائے۔