فواد چودھری نااہلی کیس: فریقین کو تحریری جواب دینے کیلیے مزید مہلت

28

اسلام آباد(صباح نیوز+اے پی پی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فوادچودھری کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر فریقین کو تحریری جواب دینے کے لیے مزید وقت دے دیا ۔بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کی نااہلی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو تحریری جواب دائر کرنے کے لیے مزید وقت دے دیا۔ چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جب سیاسی کیسز عدالت میں آتے ہیں تو اس سے عدالتی ساکھ خراب ہوتی ہے جب کہ فواد چودھری نے درخواست گزار سمیع ابراہیم پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے2پروگرام کیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے میرے خلاف درخواست منظور کرلی۔انہوں نے کہا کہ میری بیوی اور میری بیٹی کی تصویریں ٹی وی پر چلائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ سمیع ابراہیم نے میرے خلاف پروگرام کیے اور سوشل میڈیا پر میرے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ میں اس کیس کا سامنا کرنا چاہتا ہوں، عدالت جرمانہ لگا کر کیس ختم کرے ، پھر بلیک میلنگ نہ ہو۔علا وہ ازیںاسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل بینک قوانین کے برعکس تقرریوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی ۔بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے درخواست پرسماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کے پاس ملازمین کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں،اب لگ یہی رہا ہے کہ ساری مستقل ملازمت ختم کر کے عارضی ملازمت پر حکومت ملازم رکھے۔ سماعت کے دوران چیف آرگنائزر نیشنل بینک اسٹاف یونین لطیف قریشی عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ مستقل اسامی پر عارضی ملازم تعینات نہیں کیا جا سکتا، صدر نیشنل بینک نے نیشنل بینک سروس رولز کی بھی خلاف ورزی کی ہے ۔