تم تو رستہ نہیں دیتے ہو گزرنے کے لیے

88

عنایت علی خان
کچھ عرصے قبل دو اسلامی معاف کیجیے گا مسلمان ملکوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ خیر سگالی (ایک لفظ ہے خیر سے الگ نہیں ہے) کے طور پر پاکستان تشریف لائے تھے۔ روایتی انداز میں موصوفان کی آمد، قیام، دورانِ قیام سرگرمیوں یعنی وزیراعظم، وزیر خارجہ وغیرہ وغیرہ سے ملاقاتوں اور بخیر و خوبی واپسی کی تصاویر اور خبروں سے اخباروں کے صفحات مزین رہے۔ خبروں میں بس اتنا ہی بتلایا گیا کہ جن جن مقتدر حضرات کو معزز مہمانوں نے شرف ملاقات بخشا اُن سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی، کوئی باضابطہ اعلانیہ شائع نہیں ہوا۔ پنجابی محاورے کے مطابق ’’وچ دی گل‘‘ معززین کی واپسی کے کئی دن بعد ’’لیک‘‘ ہوئی کہ وہ خود آئے نہیں بھیجے گئے تھے اور اس اندیشے کے تحت بھیجے گئے تھے کہ پاکستانی عوام میں بھارت کے کشمیر پر جارحانہ حملے یعنی دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد ناجائز قبضے کے خلاف غم و غصے اور ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والے مسلمانوں کے بوڑھے مجاہد رہنما سید علی گیلانی کی پُرسوز اپیل کے اثرات کے نتیجے میں کہیں حکمرانوں کی دینی اور انسانی حمیت جسے عالمی استعمار نے تھپک تھپک کر سلایا ہوا ہے جاگ نہ اُٹھے اور وہ پڑھائی پٹی کے مطابق عوام کی طفل تسلی کے لیے اپیلوں میں ساتھ کھڑے ہونے اور آخری گولی اور خون کے آخری قطرے تک دشمن کا مقابلہ کرنے کے کھوکھلے بیانات سے آگے بڑھ کر کوئی بامعنی اقدام نہ کر بیٹھیں۔ گویا معزز و محترم مہمانان گرامی اس مشن کے ساتھ قدم رنجہ ہوئے تھے کہ بچشم سر مخالفین اسلام کی جارحیت کی داد جس بے حمیتی اور دیدہ دلیری سے اُن کے اپنے ممالک یعنی سعودی عربیہ اور متحدہ عرب امارات نے دی ہے پاکستان بھی صلیب، ترشول اور ڈیوڈ آئی کے اشتراک سے تشکیل کردہ نقشے کی تکمیل میں کسی چون وچرا کا مظاہرہ نہ کر بیٹھے۔ یہ مشن تھا جس کی تکمیل کے سلسلے میں معزز مہمانوں کی تشریف آوری ہوئی تھی اور یہی وہ پیغام تھا جو دنیا کی تمام انسان دوست مملکتیں اور انجمنیں بھارت کی ننگی جارحیت اور ظلم و ستم کو نظر انداز کرتے ہوئے (کہ ان سب کے کسی نہ کسی انداز سے بھارت سے مفادات وابستہ ہیں) پاکستان کو دے رہی تھیں بقول اکبر۔
سبھی مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ رکھ نیچی نظر اپنی
کوئی اُن سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہو کر
میرا اپنا اضافی مضمون تو اسکول سے لے کر کالج تک عربی رہا جو اپنی سہل انگاری کے سبب دسترس سے باہر رہا لیکن والد مرحوم سے سُنے ہوئے اکثر فارسی کے اشعار اور بعض کی مرحوم ہی کی ظریفانہ تشریح کے ساتھ یاد ہیں جن میں سے ایک مہمانانِ گرامی کے مشفقانہ رویے کے پیش نظر ذہن میں کُلبلا رہا ہے۔ شعر ہے۔
دوست آں باشدر کہ گیرد دستِ دوست
در پریشاں حالی و درماندگی
(دوست تو حقیقت میں وہ ہے جو دوست کی پریشان حالی اور بیچارگی میں اس کا ہاتھ تھام لے)
اس کی ظریفانہ تشریح یوں تھی کہ دوست تو حقیقت میں وہ ہے جو اپنے دوست کو پٹتے ہوئے دیکھے تو جوابی حملے سے روکنے کے لیے اپنے دوست کا ہاتھ پکڑ کر اس کی خوب درگت بنوائے۔ سردست تو عمومی صورت حال یہی ہے کہ کشمیریوں کی فریاد پر او آئی سی اور اس کے اراکین یعنی سربراہان مملکت کا ردعمل غالب کے اس شعر کے مصداق ہے۔
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرمائیں گے کیا؟
ہمارے مہمانوں کے سرپرستوں کی تشویش میں اس خبر سے بھی خاصا اضافہ ہوگیا تھا کہ بعض مولوی پاکستانی حکمرانوں کو بھڑکانے کے لیے غزوہ ہند میں شرکت کرنے والوں کے لیے دی جانے والی جنت کی بشارت والی حدیث کا پرچار کرنے لگے ہیں جس سے خود بھارتی مسلمانوں کا ذہن بھٹکنے کا اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ اور اُن عالمی قوتوں کا یہ اندیشہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہ گزشتہ دنوں بھارت سے آنے والے ایک عزیز نوجوان نے مجھ سے یہ بات کہی تھی کہ ایک بار اگر حافظ سعید غزوئہ ہند کا اعلان کردیں تو بھارت کے لاکھوں نوجوان مسلمان لبیک کہتے ہوئے گھروں سے نکل آئیں گے۔ لیکن ظاہر ہے اس مہم کے آغاز کے لیے دینی جذبے کے حامل مسلمان پاکستان کی طرف پُرامید نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ اس معاملے کے اصل فریق بھی ہیں اور ایٹمی قوت کے حامل بھی (ایٹمی قوت کے ذکر سے عبدالقدیر خان اور ان کے شرکاء کار کے دل پر جو گزرتی ہوگی اسے وہی جانتے ہوں گے) لیکن پاکستان کے حکمرانوں کا تو غزوئہ ہند کے ذکر ہی سے پتا پانی ہورہا ہے۔ بقول علامہ اقبالؒ۔
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اُسے کہ مسلماں کی موت مر
ہمارے حکمران اُٹھتے بیٹھتے علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم کا پاکستان بنانے کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکنجنہیں قرآن میں دی گئی اللہ تعالیٰ کی نصرت کا یقین نہ ہو وہ علامہ اقبال کے اس شعر کی ضمانت پر کیسے یقین کریں کہ:
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اُتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
پاکستان اور عالم اسلام کے عام مسلمانوں کی حمیت اپنی جگہ لیکن ان کے حاکموں کے مرض وہن (حب الدنیا و کراہیہ الموت) کا کیا علاج؟ علاج تو ہے جو بالآخر ظہور پزیر ہونا ہے اور وہ یہی ہے یا وقت کے تقاضے کے مطابق آگے بڑھو ورنہ پیچھے ہٹ جائو کہ بقول سلیم کوثر
تم بھلا تازہ بشارت کوئی کیا دو گے ہمیں
تم تو رستہ نہیں دیتے ہو گزرنے کے لیے