ٹرمپ نے ترک معیشت تباہ کرنے کی دھمکی دے دی

92

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد اگر ترکی نے حدود کو پامال کیا تو امریکا ترکی کی معیشت پر حملہ کرے گا۔

امریکی صدر نے اپنے نیٹو کے سب سے بڑے اتحادی ترکی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے دیں۔صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ:

“جیسا کہ میں پہلے بھی دوٹوک الفاظ میں کہہ چکا ہوں اور ایک بار پھر واضح طور پر دہرا رہا ہوں کہ اگر ترکی نے کچھ ایسا کیا جو کہ میرے خیالات اور تصورات سے مطابقت نہیں رکھتا تو میں ایسےحدود سے تجاوز سمجھوں گا اور میں ترکی کی معیشت کو تباہ و برباد کر دوں گا جیسا کہ میں پہلے بھی کر چکا ہوں”۔

واضح رہے کہ ترکی  کی جانب سے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیے جانے والے”کردجنگجوؤں” اور داعش کے خلاف شمالی شام میں طویل مدتی آپریشن کے اعلان کے بعدسرحد پر موجود امریکی فوج نے انخلا شروع کردیا ہے۔

دنیا بھر میں دہشت گرد قرار دی گئی شدت پسند تنظیم “داعش” کے خلاف  لڑنے کے لیے امریکا نے اپنے نیٹو کے سب سے بڑے اتحادی ترکی کا ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ترکی یہ جنگ تنہا لڑنے کے لیے پرپوری طرح تیار ہے۔

امریکا کا داعش کے خلاف جنگ میں اپنے سب سے بڑی اتحادی کا ساتھ نہ دینا دراصل واشنگٹن کی شدت پسندی کے خاتمے کی پالیسی سے متعلق بڑی تبدیلی ہے ، امریکا نے ترکی سے اس جنگ میں شامل ہونے اور اپنی کسی بھی معاونت سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک فوج کے آپریشن کی  صورت میں وہ اپنے فوجیوں کو متعلقہ علاقوں سے واپس بلا لے گا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے شمالی شام میں طویل مدتی آپریشن شروع کرنے کے اعلان کے بعد امریکا نے اپنے فوجیوں کا انخلا شروع کردیا ہے اور وہ سرحد پر متصل اپنے دو اڈوں سے فوجی واپس بلا رہا ہے تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ امریکا اپنے 1 ہزار فوجی واپس بلائے گا یہ شام سے مکمل طور پر انخلا کرے گا۔