قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ

171

بعید، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جا رہا ہے۔ زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔ یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑ رہا ہے اور ہم کبھی اس کی ماننے والے نہیں ہیں‘‘۔ رسول نے کہا ’’پروردگار، اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے، اس پر اب تو ہی میری نصرت فرما‘‘۔ جواب میں ارشاد ہوا ’’قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے‘‘۔ آخرکار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آ لیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا دْور ہو ظالم قوم!۔ پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں اٹھائیں۔ (سورۃ المؤمنون:36تا42)

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ جیسے قرآن کی سورت سکھاتے اسی طرح یہ دعا بھی ہمیں سکھاتے تھے: اللہم انی اعوذ بک من عذاب جہنم واعوذ بک من عذاب القبر واعوذ بک من فتنۃ المسیح الدجال واعوذ بک من فتنۃ المحیا والممات ’’اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے‘‘۔
(ابن ماجہ)