درآمد شدہ خام مال سستا ہونے سے مقامی صنعت مسائل کا شکارہے،چودھری سجاد سرور

63

اسلام آباد (نامہ نگار) اسلام آباد اسمال چیمبر آف کامرس اینڈ سمال انڈسٹریز کے صدر چودھری سجاد سرور‘ سابق صدر رانا ایاز احمد نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس کے قوانین میں تبدیلی کی وجہ سے درآمد شدہ خام مال ملک میں تیار ہونے والے خام مال سے سستا ہو گیا ہے جس نے مقامی صنعت کو مسائل سے دوچار کر دیا ہے جبکہ بھاری مقدار میں زرمبادلہ بھی ضائع ہو رہا ہے ،ان کا کہنا تھا کہ یہ رجحان ملک میںصنعتوں کی بندش،بینک ڈیفالٹ، غربت، بے روزگاری محاصل میں کمی اور زرمبادلہ کے زیاں کا سبب بن رہا ہے اس لیے ان قوانین کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ زیرو ریٹنگ کے خاتمے کے بعد برآمدی صنعت مقامی منڈی سے خام مال خریدنے کے بجائے درآمدات کو ترجیح دی رہی ہے جس سے ملک میں کپاس، دھاگے اور خام کپڑے کی طلب کم ہو گئی ہے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے خام مال تیار کرنے والے ہزاروں صنعتی یونٹ خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں۔ایکسپورٹ انڈسٹری کو درآمد شدہ خام مال پر سیلز ٹیکس یا ڈیوٹی اد انہیں کرنا پڑتی جبکہ مقامی خام مال بھاری ٹیکس عاعد ہیں اور ان صنعتوں کوریفنڈ کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی کاروباری لاگت بڑھ جاتی ہے۔
سی ڈی اے عوامی شکایات دور کرنے کے اقدامات کرے،اسرار الحق مشوانی
اسلام آباد(نامہ نگار) فیڈریشن آف ریئلٹرز پاکستان کے کوآرڈینیٹر اسرار الحق مشوانی نے کہا ہے سی ڈی اے میں پلاٹوں کی خریدو فروخت اور جائیداد کی ٹرانسفرز کیسز میں شفافیت لانے اور اس عمل میں تیزی لانے کے لیے انقلابی اقدام کی ضرورت ہے اور ہم سی ڈی اے حکام کو متوازن تجاویز دینے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا ہے سی ڈی اے میں عام سائل کی شکایت ہے کہ دفتر میں اس سے مناسب برتائو نہیں ہوتا جس سے سائل کی پریشانی بڑھ جاتی ہے اور یہ عمل ہر کام میں تاخیر کا باعث بن رہا ہے اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ان مسائل کا حل نکالا جائے انہوں نے کہا ہے کہ اس وقت ٹیکس کا سارا بوجھ عوام اور کاروباری برادری پر ڈالا جا رہا ہے اگر ٹیکس کے نظام کو متوازن کر کے تمام شعبوں پر یکساں بوجھ ڈالا جاتا تو قرضوں کی ضرورت پڑتی نہ مہنگائی کا سونامی پوری قوم کو ڈبو رہا ہوتا۔