پاکستان کے 70فیصد لوگ کام کی جگہ پر دوسرے فرد کی سگریٹ نوشی سے متاثر ہوتے ہیں، محمد کاشف مرزا

129

کراچی (اسٹا ف رپورٹر)سیگر یٹ نوشی سے دنیا میں 274اموات روزانہ ہو تی ہیں، پاکستان کے 70فیصد لوگ کام کی جگہ پر دوسرے فرد کی سگریٹ نوشی سے متاثر ہوتے ہیں کراچی سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (SPARC) کے زیر اہتمام بچوں پر تمباکو نوشی کے اثرات پرایک روزہ میڈیا ورکشاپ کراچی کے مقامی ہوٹل میں انعقاد کیا گیا،

جس میں اس عزم کے ساتھ کہ کام کرنے والے صحافیوں کے مابین آگہی پیدا کرتے ہوئے کراچی کو تمباکونوشی سے پاک صاف شہر بنائیں گے،سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے پر وجیکٹ منیجر محمد کاشف مرزانے ورکشاپ میں شریک صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان 15 ممالک میں ہوتا ہے، جہاں تمباکو کی پیداوار اور استعمال سب سے زیادہ ہے،

انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیم ’نیٹ ورک فار کنزیومر پروٹیکشن‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں پانچ لاکھ سے زائد دکانیں اور پان کے کھوکھوں پر سگریٹ با آسانی دستیاب ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ملک میں روزانہ تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی کا آغاز کر رہے ہیں یعنی تمباکو نوشی کی جانب قدم بڑھانے والے ہر پانچ میں سے دو کی عمر دس سال ہے،

انہوں نے ورکشاپ میں شریک شرکاء کو تمباکو اور تمباکو نوشی کی ممانعت اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے تحفظ سے متعلق آرڈیننس 2002 پر حقائق فراہم کئے جس میں ایسے اقدامات شامل ہیں جن میں تمباکو نوشی میں مبتلا افراد کو عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اور 18 سال سے کم عمر افراد پر سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے،

انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت کوئی شکایت درج نہیں کی جاتی ہے، پاکستان میں کام کی جگہ سگریٹ نوشی کرنے والے فرد کے ساتھ دیگر افراد بھی یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں،

نوجوان اور خواتین تمباکو کی صنعت کے بنیادی ہدف ہیں کیونکہ گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے کے مطابق اس وقت 13.3 فیصد لڑکے اور 6.6 فیصد لڑکیاں (جن کی عمریں 13 سے 15 سال ہیں) تمباکو کا استعمال کرتے ہیں – تقریباً 160,000 افراد پاکستان میں ہر سال تمباکو نوشی سے ملحقہ بیماریوں کی وجہ سے مرجاتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگوں کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے تقریباً 40,000 افراد ہلاک ہوتے ہیں،

انہوں نے مزید کہا کہ سپارک جلد ہی ایک دوسری نشست کا اہتمام کرے گی جس میں اس کے مالی نقصانات کے متعلق آگاہ کیا جائے گا- ”تھرڈ ٹائر (تمباکو پر کم ٹیکسز) کے تعارف کے بعد 2016 سے 2019 تک قومی آمدنی کو 77.85 بلین روپے کا نقصان ہوچکا ہے،

میڈیا ورکشاپ سے کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران نے میڈیا کے کردار اور سماجی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا تبدیلی کا ذریعہ ہے اور میڈیا نے حالیہ دنوں میں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے ایک مضبوط کردار ادا کیا ہے،

نوجوانوں میں تمباکو نوشی کی عادت سے متعلق انہوں نے بتایا کہ نشہ کی ابتدا سگریٹ نوشی سے ہوتی ہے،انہوں نے انسداد تمباکو نوشی مہم کے بنیادی کردار کو اجاگر کیا جس سے اسکولوں اور کالجوں میں صحت کے خطرات کم ہونگے، انہوں نے کہا کہ ہم سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں تاکہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی عادت کی حوصلہ شکنی کی جاسکے- انہوں نے کہا کہ صحت مند طرز زندگی کے لئے بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے کے خلاف قوانین موجود ہیں، اچھی صحت کے لئے تمباکوشی کی عادت کو کم کریں اور صحت پر اٹھنے والے سرکاری اخراجات کو کم کریں، انہوں نے قانون کے نفاذ کے لئے اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا ہے،

کراچی یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال نے میڈیا ورکشاپ میں شریک شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نکوٹین کے علاوہ بھی سگریٹ میں بہت سے مضر اجزاء ہوتے ہیں،

اس میں 4000 کیمیکلز ہوتے ہیں جس میں 50 کے متعلق پتا چلا ہے کہ وہ مضر نوعیت کے ہیں، مثال کے طور پر اس میں کاربن مونو آکسائیڈ ہوتا ہے جو کہ کار سے خارج ہونے والے دھویں میں ہوتا ہے، بیوٹین لائٹر کے پانی میں شامل ہوتا ہے اور آرسینک، امونیا اور میتھانول راکٹ کے ایندھن میں استعمال ہوتے ہیں،

ایک نوعمر بچے کا دماغ جو کہ ابھی نشوونما کے مرحلے میں ہوتا ہے اسی دوران نکوٹین کا استعمال اس کو متاثر کرتا ہے اور نوجوانوں کے بچپن کے دوران دماغ کی کام کرنے کی صلاحیت میں تبدیلی آتی ہے جس سے وہ زندگی بھر نشہ میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ان کے رویوں اور رجحانات پر دوررس مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں،تمباکو نوشی کئی ایک خطرناک رویوں کا باعث ہے،

ورکشاپ کے اختتا م پر سپارک کے پر وجیکٹ منیجر محمد کاشف مرزانے ورکشاپ میں شریک شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں مسائل کے حل کے لئے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے،

ہم سماجی مسائل اور حقائق پر مبنی رپورٹس کے لئے مزید نشستیں میڈیا کے ساتھ منعقد کریں گے اور قانون ساز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درست کارروائی کے لئے اپنی گزارشات بھیجتے رہینگے،ہم مستقبل میں مزید اس طرح کے ورکشاپس کا انعقاد کرتے رہینگے،آخر میں ورکشاپ میں شریک شرکا ء کو تعریفی اسناد پیش کئے گئے۔