وفاق صوبوں میں مداخلت سے باز رہے کچرا صاف کردیں گے،وزیراعلیٰ سندھ

69
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ دنبہ گوٹھ میںسیکنڈری اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ دنبہ گوٹھ میںسیکنڈری اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاق صوبوں میں مداخلت سے باز رہے ‘ کچراصاف کردیں گے ۔مقامی ہوٹل میں سندھ اسٹریٹیجی پلان کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم 21 ستمبر سے خصوصی مہم کے ذریعے کچرا اٹھانا شروع کریں گے، میں علی زیدی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ 21 ستمبر سے 21 اکتوبر تک کراچی میں اپنی مہم بند کردیں،ہم کچرا اٹھا کر تمام علاقے صاف کر کے دکھائیں گے،کراچی میں کچرے کی سیاست بڑھتی جا رہی ہے،قانون کے مطابق شہر کی صفائی اور کچرا اٹھانے کا کام ڈی ایم سیز کا ہے اور نالوں کی صفائی کا کام کے ایم سی کا ہے،میں نے ڈپٹی کمشنرز کو ضلع کے حساب سے کچرا اٹھانے کے اہداف دیے ہیں اور ان سے کہا ہے کہ جہاں جہاں پر کچرا ہے اْن کی تصاویر بنائی جائیں اور بتایا جائے کہ کتنے کچرے جمع کرنے کے اسپاٹس ہیں اور علاقے کے حساب سے تفصیلات جمع کریں اور اس کے بعد جامع منصوبہ بندی کے ساتھ صفائی کا عمل شروع کیاجائے اور یہ بات واضح کی جائے کہ صفائی کے کام میں کتنے روز لگیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی حکومت ملک میں موجودہ مالی مسائل کا تدارک کریں تو بہتر ہے،میں وفاقی حکومت سے کہتا ہوں کہ آپ آئین پر عمل اور اپنا کام کریں، دوسرے صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ ایک سوال کے جواب انہوں نے کہا کہ آئی بی اے پاس ٹیچرز 2016ء میں مقرر کیے گئے تھے اور ان سے کہا گیا ہے کہ آپ سندھ پبلک سروس کمیشن میں پیش ہوجائیں،یہ گریڈ 17 کی پوسٹ ہے جوکہ ایس پی ایس سی کے بغیر نہیں ہوسکتی، پر امن احتجاج کوئی بھی کرتا ہے ہم اس کو نہیں روکیں گے۔ مندر توڑنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں اس نازیبا حرکت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پانی ہماری زندگی میں بہت اہم ہے، پانی کے ذرائع دنیا میں کم ہوتے جارہے ہیں، جس میں پاکستان بھی شامل ہے، ہم پانی کے ذرائع بڑھا نہیں سکتے مگر ہم پانی کو محفوظ ضرور کر سکتے ہیں،جس کے لیے سندھ حکومت کام کر رہی ہے۔ علاوہ ازیںوزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے گڈاپ ٹاؤن دمبہ گوٹھ میں واقع یو ایس ایڈ کے تعاون سے نئے تعمیر شدہ اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ سال قبل لوگ اپنے علاقوں میں پولیس اسٹیشن قائم کرنے ان کے خلاف شکایات لے کر آتے، بجلی اور سڑکیں تک مانگتے تھے لیکن اب لوگ اسکولز کا مطالبہ کرتے ہیں جوکہ ایک خوش آئند بات ہے ،اس کو کہتے ہیں ’ ’تبدیلی‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ’’بنیادی تعلیمی پروگرام‘‘ کے ذریعے تعلیمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یو ایس ایڈ کے تعاون سے ’سندھ بنیادی تعلیم پروگرام‘106 اسٹیٹ آف آرٹ کے حامل اسکول 155 ملین ڈالر کی لاگت سے سندھ کے 10 اضلاع (سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، دادو، قمبر۔شہدادکوٹ، جیکب آباد، کشمور، کراچی ملیر۔گڈاپ اور بن قاسم ، کراچی جنوبی لیاری، کراچی غربی اورنگی اور کیماڑی) میں تعمیر کیے ہیں، جس کی بنیاد دمبہ گوٹھ میں 1972 میں رکھی گئی تھی جس میں 6 کمرے اور 170 طلبہ تھے لیکن اس وقت اسکول میں 23 کمریبشمول 15 پرانے کمرے تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ 685 طلبہ اور 23 اساتذہ شامل ہیں۔ اسکول میں لیب، سائنس روم، کمپیوٹر لیب، اساتذہ کے لیے کمرے اوراسکول میں پلے ایریا، صاف پانی، بیت الخلاء ، ایک بڑا ہال موجود بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اسکولز صوبے کے 10 اضلاع میں تعمیر کیے جارہے ہیں جس میں سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، دادو، قمبر-شہدادکوٹ، جیکب آباد، کشمور، کراچی ملیر-گڈاپ اور بن قاسم ، کراچی ساؤتھ، لیاری، کراچی ویسٹ-اورنگی اور کیماڑی شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ اسکولز پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت چلائے جائیں گے،ان اسکولز میں شام کی شفٹ میں نان-فارمل ایجوکیشن تعلیم دی جائی گی، شام کی شفٹ کے ذریعے 39 لاکھ آؤٹ آف اسکول بچے اسکول لائے جائیں گے جبکہ 5 سالہ پرائمری کا کورس 3 سال میں مکمل کرایا جائے گا۔