گوگلی کا بانی اور عبدالقادر

337

 

مظفر اعجاز

پاکستان کے مایہ ناز اسپنر سابق کرکٹ کپتان عبدالقادر کے انتقال کے بعد ہمارے کرم فرمائوں نے بڑی زبردست معلومات ہمیں دیں جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔ کرکٹ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے بیشتر لوگ اس سے واقف ہوں گے لیکن نوآموز تجزیہ نگار اور بعض پرانے صحافی بھی ایک غلطی مسلسل کررہے ہیں جس پر جی چاہا کہ باقاعدہ تصحیح کر دی جائے۔ ایک کے بعد ایک لکھاری نے لکھا کہ عبدالقادر گوگلی یا گگلی بولنگ کے بانی تھے۔ اس پر توجہ دلانے پر کسی نے گوگلی کا حوالہ دیا کہ وہاں تو یہی لکھا ہے لیکن بات یہ ہے یہ حقیقت کے خلاف ہے۔ کرکٹ کے شائقین اور نوآموز لوگوں کی اطلاع کے لیے بال یا بولنگ کے اس حربے کے موجد سابق انگلش کرکٹر برنارڈ جیمز ٹنڈل بوسنکویٹ یا بوسنکو ٹ تھے جو 1877ء میں پیدا ہوئے اور 1936ء میں اس دنیا سے چلے گئے۔ بوسانکوٹ کی ایجاد کردہ بال کو آسٹریلین ـ’’بوسے‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اسے رانگ ون بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن گوگلی کے نام سے دنیائے کرکٹ میں مشہور ہے۔ پاکستان کی جانب سے انتخاب عالم مشتاق محمد وسیم حسن راجا بھی یہ بال کراتے تھے عام طور پر لیگ اسپن بالنگ کرنے والا ’’گلوگلی ‘‘ ضرور کراتا ہے۔ اس بال اور خفیہ ہتھیار کی اہمیت اس قدر ہے کہ اس کو سیکھنے اور اس پر عبور حاصل کرنے میں بہت وقت لگتا ہے آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اسپن بولر اسٹوارٹ مک گل کا کہنا ہے کہ مجھے گوگلی سیکھنے میں بہت وقت لگا لیکن میں اس میں مہارت نہیں حاصل کر سکا چنانچہ میں نے گوگلی سیکھنے کا فیصلہ ترک کر دیا لیکن پھر مشکل یہ ہوئی کہ دوبارہ لیگ اسپن پر کنٹرول حاصل کرنے میںمجھے چھ ماہ لگ گئے۔
میڈیا اور چمک کے درمیان ہمارے ماہرین بہت سی باتوں کو اور بہت سے حقائق کو بھول گئے یا ان پر پردہ پڑ گیا۔ حتیٰ کہ انٹرنیٹ پر صرف ’’گوگلی ‘‘بال تلاش کریں تو پاکستان میں گوگلی کو زندہ کرنے والا عبدالقادر کو قرار دیا گیا۔ لیکن جب مشتاق محمد گوگلی بولر لکھ کر انٹرنیٹ سے دریافت کیا گیا تو اس کے تعارف میں یہی لکھا ہوا تھا کہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے اور گوگلی بولر لکھا ہوا نظر آئے گا۔ اسی طرح وسیم حسن راجا کا نام گوگلی بولر کے طور پر تلاش کریں تو سامنے آئے گا کہ دائیں ہاتھ سے لیگ بریک گوگلی کرنے والے بولر تھے۔ ہمارے نوآموز اور روایتی پرانے تجزیہ نگاروں کے لیے ضروری ہے کہ کوئی فیصلہ سنانے یا کوئی حکم لگانے سے قبل تحقیق کر لیا کریں۔ جس بولر نے گوگلی ایجاد کی تھی اس نے بھی کرکٹ میں کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دیا۔ اس نے کیریئر میں صرف سات ٹیسٹ میچوں میں 11 رنز کی اوسط سے 147 رنز بنائے ہیں۔ اس نے ٹیسٹ میں صرف 970 گیندیں کرائیں اور فرسٹ کلاس میں 26559 گیندیں پھینکنے کا اعزاز حاصل کیا برنارڈ بوسانکویٹ نے 7 ٹیسٹ میچوں میں کل 25 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کی اوسط 24.16 تھی۔ لیکن کرکٹ کی دنیا کو یہ مختصر کیرئیر والا کھلاڑی بہت عظیم ہتھیار دے گیا۔ اس نے اپنے ہتھیار کی مدد سے ٹیسٹ میچ میں 107 رنز پر 8 کھلاڑی آئوٹ کرنے کا کارنامہ انجام دیا تھا۔ جب کہ اس نے فرسٹ کلاس میچ میں 131 رنز دے کر 9 وکٹیں بھی لیں۔
بات اس مخمصے کی ہورہی تھی کہ پھر عبدالقادر نے کیا کیا۔ عبدالقادر نے گوگلی کے ہتھیار کو نہ صرف بھرپور طریقے سے استعمال کیا بلکہ اس سے بھرپور فائدہ بھی اٹھایا۔ عبدالقادر گوگلی کے بادشاہ بن گئے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ گوگلی کے بانی نہیں تھے۔ اس کے علاوہ بھارت کے بھگوان چندر شیکھر بھی گوگلی بولر رہے۔ عبدالقادر کے انتقال سے لیگ اسپن بالنگ کے طالبعلم بہت کچھ سیکھنے کے مواقع سے محروم ہو گئے۔ لیکن ان کے پاس ابھی مشتاق محمد موجود ہیں۔ جہاں تک اسپن بالنگ کا تعلق ہے تو یہ صرف لیگ اسپن یا گوگلی پر ختم نہیں ہو جاتا بلکہ لیفٹ آرم بولرز میں اقبال قاسم، آف اسپنرز میں توصیف احمد اور اس کے علاوہ سعید اجمل، دانش کنیریا، عبدالرحمن وغیرہ بھی پاکستان کا اثاثہ ہیں۔ گوگلی کے بارے یہ میں دلچسپ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابتدا میں کھلاڑیوں نے اسے بے ایمانی یا چیٹنگ کا نام دیا، معروف کھلاڑی آرتھر شرو شبری نے تو گوگلی پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کر دیا تھا۔ انگریزوں کی بدقسمتی تھی کہ عبدالقادر نے ان ہی کا ایجاد کردہ ہتھیار سو سال بعد ان ہی پر کامیابی سے آزمایا جسے وہ بے ایمان کہتے تھے۔ عبدالقادر کے خلاف انگلش پریس نے بھی بہت کچھ لکھا لیکن اس کے شاندار کیریئر کو نہیں روک سکے۔