سیکٹر ’’سی‘‘ کے 75 فیصد علاقے اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ

85

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہواوسلو معاہدے میں طے پائے سیکٹر ’’سی‘‘ کے 75 فیصد علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ فلسطینی انتظامیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی آیندہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ شمالی اغوار اور بحیرۂ مردار کے شمالی علاقے جبل الجلید سمیت 75 فیصد علاقہ اسرائیل میں ضم کرکے وہاں یہودی آبادکاری اور کالونیاں بسائی جائیں۔ دوسری جانب عرب ممالک اور عالم اسلام کی طرف سے فلسطین کی مقبوضہ وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اسرائیلی اعلان کی مذمت کے بعد یورپی ممالک نے بھی نیتن یاہو کا منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق 5 یورپی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے کے نواحی علاقے وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا وادی اردن سے متعلق بیان تشویش ناک ہے، اور اس طرح کے اقدامات اور اعلانات سے خطے میں دیر پا قیام امن اور دو ریاستی حل کی کوششوں کو غیرمعمولی نقصان پہنچے گا۔ خیال رہے کہ منگل کے روز بنیامین نیتن یاہو نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر انہوں نے 17 ستمبر کو ہونے والے کنیسٹ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو وہ نئی حکومت قائم کرنے کے بعد وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان کریں گے۔ نیتن یاہو کے اس متنازع اور اشتعال انگیز اعلان پر عالم اسلام اور عرب ممالک کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ خیال رہے کہ وادی اردن مقبوضہ مغربی کنارے کے 30 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔ اس کی مشرقی سرحد اردن سے ملتی ہے اور اسے مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم السلام الآن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وادی اردن میں فلسطینی باشندوں کی تعداد 53 ہزار ہے اور اس میں بیرون ملک سے ایک لاکھ 20 ہزار یہودی لا کر غیرقانونی طورپر آباد کیے گئے ہیں۔