کشمیری جذبہ حسینیت کو زندہ کررہے ہیں،ڈاکٹر معراج الہدیٰ

59
جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر معراج الہدیٰ صدیقی‘ نائب امیر صوبہ حافظ نصر اللہ عزیز‘ امیر کراچی حافظ نعیم ‘ نائب امیر ڈاکٹر واسع شاکر ‘معروف دانشور و کالم نگار شاہنواز فاروقی ‘ جماعت اسلامی ضلع شمالی کے تحت جامع مسجد الہدیٰ نارتھ کراچی میں تربیتی اجتماع سے خطاب کررہے ہیں
جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر معراج الہدیٰ صدیقی‘ نائب امیر صوبہ حافظ نصر اللہ عزیز‘ امیر کراچی حافظ نعیم ‘ نائب امیر ڈاکٹر واسع شاکر ‘معروف دانشور و کالم نگار شاہنواز فاروقی ‘ جماعت اسلامی ضلع شمالی کے تحت جامع مسجد الہدیٰ نارتھ کراچی میں تربیتی اجتماع سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیرڈاکٹر معراج الہدی صدیقی نے کہا ہے کہ واقعہ کربلا ایک درس گاہ ،فکر ،سوچ اور نظریے کا نام ہے ،حضرت امام حسینؓنے اسلامی ریاست کے نظام اور دین میں بگاڑ کے خلاف خاموشی اختیار کرنے کے بجائے کلمہ حق بلند کیا اور جان قربان کی۔آج مقبوضہ کشمیر ،سری نگر میں بھی ایک کربلا جاری ہے اور سید علی گیلانی ظلم وستم کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور حسینیت کو زندہ کررہے ہیں ،واقعہ کربلا ظلم و جبر اور دین میں بگاڑ کے خلاف اٹھنے اور جدوجہد کرنے کا درس دیتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ضلع شمالی کے تحت جامع مسجد الہدیٰ نارتھ کراچی میں ایک روزہ دعوتی و تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجتماع سے جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر حافظ نصر اللہ عزیز،امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، نائب امیر ڈاکٹر واسع شاکر ،معروف دانشور و کالم نگار شاہنواز فاروقی ،امیر ضلع شمالی محمد یوسف ،سیکرٹری ضلع عرفان احمد ،احمر خان ،ناظمین علاقہ جات شکیل احمد ،عماد ظہیر ، عبداللہ خان ،عباد الرحمن ،عاصم علی ،سید رضوان شاہ ،شاہجہاں جوکھیواور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ڈاکٹر معراج الہدیٰ نے مزید کہا کہ اسلامی سا ل کا پہلا مہینہ بھی قربانی کا ہے اور آخری مہینہ بھی قربانی کاہے ،جن میں حضرت ابراہیم ؑ،حضرت اسماعیل ؑ،حضرت عمر فاروق ؓ،حضرت امام حسین ؓ کی قربانیوں اور شہادتوں کو یاد کیا جاتا ہے اور ان عظیم اور پاک ہستیوں کی زندگی سے سبق حاصل کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج عالم کفر اپنے تمام اختیارات اور وسائل کے ساتھ دنیا بھر میں اسلام کو مٹانے کی کوششوں اور سازشوں میں مصروف ہے ۔امریکا ،اسرائیل اور بھارت سمیت دیگر بڑی طاقتوں نے مسلمانوں کے خلاف گٹھ جوڑ کرلیا ہے ،ان حالات میں امت کے اتحاد و یکجہتی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے طالبان سے مذاکرات ختم کردیے ہیں لیکن افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغانیوں کی مرضی سے ہی ہوگا اور ان شاء اللہ کابل میں امریکا شکست سے دوچار ہوگا ،کشمیر کا فیصلہ بھی بھارتی حکمرانوں کی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ سید علی گیلانی اور کشمیریوں کی مرضی کے مطابق ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور متحدہ عرب امارات نے نریندر مودی کو اعلیٰ سول ایوارڈ دیا ہے لیکن سلام ہے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو اور ایران کی سپریم کونسل کے رہنما آیت اللہ خامنہ ای کو جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم اور کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی ۔ حافظ نصر اللہ عزیز نے کہا کہ خوف خدا اور فکر آخرت ایک مومن اور داعی کے لیے بنیادی حیثیت کی حامل ہیں ،ہمیں ہر دم اپنے رب کی رضا و خوشنودی کو سامنے رکھنا ہے اور آخرت کی تیاری کرتے رہنا ہے ،ہماری ساری جدوجہد اور دعوت دین کے لیے سرگرمیوں کا مرکزو محور یہ ہی ہے کہ ہم جب روز آخرت اپنے رب کے حضور حاضر ہوں تو یہ کہہ سکیں کہ ہماری زندگی تیری رضا میں ہی گزری ہے ۔ہمیں ہر لمحہ اللہ تعالی سے اپنا تعلق مضبوط بنائے رکھناہے اور اس سے مدد اور استعانت طلب کرتے رہنا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی دیگر مذہبی ، مسلکی ،لسانی یا علاقائی گروہوں اور پارٹیوں کی طرح کوئی پارٹی نہیں اور صرف انتخابات کی کامیابی یا ناکامی ہمار ا معیار نہیں ، جماعت اسلامی ایک اسلامی ،انقلابی اور دعوتی تحریک ہے ، اللہ کی حاکمیت قائم کرنے ،اللہ کے بندوں کو اللہ کے بندوں کی غلامی و بندگی سے نجات دلا کر صرف اللہ تعالی کی بندگی میں لانے کی جدوجہد کرنا ہماری تحریک کا اصل مقصد ہے اور یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا ہے ،اسلام کے غلبے اور نفاذ کو یقینی بنانا ہے ،اسلام کے غلبے کے بغیر اسلام پر پوری طرح عمل کرنا ممکن نہیں، یہی ہماری دعوت ہے اورہم لوگوں کو اسی دعوت کی طرف بلاتے ہیں ۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒنے اصلاح معاشرہ ،تطہیر افکار اور نظام حکومت کے قیام کے لیے پوری اسکیم اور لائحہ عمل دیا ہے ،اس میں مساجد و محلوں میں کام اور رابطے ،عوامی خدمات ،خیر کے کاموں میں شریک ہونا دوسروں کو شریک کرانا ،منکرات کے خاتمے کی کوشش کرنا اور اس میں بھی دوسروں کو شریک کرانا ،اہل خانہ ،خاندان اور اپنے دفاتر میں بھی دعوت کو پہنچانا ہے اور ہر موقع پر داعی کی حیثیت کو یاد رکھنا ہے۔