کشمیر پر کشیدگی ،پاک فوج کنٹرول لائن منتقل

143

واشنگٹن /اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک+نمائندہ جسارت)مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں بھارت سے کشیدگی کی وجہ سے پاک فوج کے دستے افغان سرحد سے کنٹرول لائن پر منتقل ہوگئے ہیں۔پاک فوج نے پانڈو سیکٹر پر بھارتی فوج کی جانب سے بھاری ہتھیار پہنچانے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔اس دوران شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں متعدد بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔عسکری ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کی جانب سے کنٹرول لائن پر مزید بلندی پر بھاری ہتھیار نصب کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاکہ پاک فوج اور شہری آبادی کو باآسانی نشانہ بنایا جا سکے ۔پاک فوج کی جانب سے بھارتی فوج کو بھرپور انداز میں نشانہ بنایا گیا جس کے باعث بھارتی ہتھیار بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ اس دوران بھارتی فوج کو بڑے جانی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بھارتی فوج نے پاک فوج کے ہاتھوں مار کھانے کے بعد اسموک بموں کے ذریعے اپنا نقصان چھپانے کی کوشش کی تاہم ناکام رہی۔ بھارتی فوج کی چیک پوسٹوں سے اٹھنے والا دھواں دور دراز کے علاقوں سے بھی دیکھا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور ہم اس کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔وائس آف امریکا کے مطابق پاک فوج کے سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ جب بھی بھارت کے ساتھ کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان کو اپنے فوجی دستے پاک افغان سرحد سے نکالنا پڑتے ہیں۔فوجی عہدیدار کا کہنا تھاکہ رواں سال فروری میں ہونے والے پلوامہ حملے کے بعد سے پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں کی افواج ہائی الرٹ ہیں۔وائس آف امریکا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستانی فوجی دستوں کے مغربی سرحد سے ہٹائے جانے کے بعد عسکریت پسندوں کی دراندازی پر قابو پانے کے لیے وسائل کم ہو جائیں گے۔بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان تنازع کشمیر پر امریکی توجہ حاصل کرنے کی خاطر مغربی سرحد سے فوجیں ہٹا کر مشرقی سرحد پر تعینات کر رہا ہے۔امریکا میں اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیا سینٹر سے منسلک شجاع نواز سمجھتے ہیں کہ پاکستان امریکا کے سامنے ایک کیس بنا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی سے پہلے ہی دولت اسلامیہ سمیت غیر ملکی عسکریت پسند گروہ پاک افغان سرحد سے متصل صوبوں ننگر ہار، نورستان اور کنڑ میں داخل ہوچکے ہیں۔مشرقی سرحد سے پاکستانی فوج ہٹائے جانے کی پیشرفت کے بعد افغانستان میں خدشات پائے جاتے ہیں پاکستان سرحد پر دولت اسلامیہ کی موجودگی کو نظر انداز کرے گا یا پھر پاکستان، افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ سے نمٹنے کے لیے دولت اسلامیہ کو طالبان کے متبادل کے طور پر استعمال کرے گا۔بلوچستان میں خدمات سرانجام دینے والے ایک سابق انٹیلی جنس عہدیدار نے وائس آف امریکا کو بتایا کہ افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کے پیش نظر پاکستان دولت اسلامیہ کی حمایت کرسکتا ہے۔نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر سابق انٹیلی جنس افسر کا کہناتھاکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ، طالبان کو دولت اسلامیہ کے ساتھ ملنے کے موقع فراہم کررہی ہے تاکہ انہیں بھارت کے خلاف استعمال کیا جاسکے۔