محکمہ انکوائریزو اینٹی کرپشن میں قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس

30

کراچی (رپورٹ: محمد انور) حکومت سندھ کے محکمہ انکوائریز و اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے شعبوں انکوائریز و اینٹی کرپشن میں سنگین نوعیت کی بے قاعدگی کا نوٹس لے کر تمام افسران کو ہدایت کی ہے کہ مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر کسی بھی افسر یا دیگر ملازمین کو ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا جائے بصورت دیگر متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق چیئرمین انکوائریز و اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ محمد وسیم نے بے قاعدگی پر صوبے بھر کے ڈائریکٹرز اینٹی کرپشن و ڈائریکٹر انکوائریز کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ حکام کے علم میں یہ بھی بات آئی ہے کہ اینٹی کرپشن شعبے کے افسران کسی بھی مقدمے کے حتمی چالان میں بعض غیر متعلقہ افسران کے نام بھی شامل کر دیتے ہیں جن کا کرپشن کے مقدمات سے تعلق نہیں ہوتا‘ ایسا کرتے ہوئے بھی اعلیٰ حکام سے نہ تو اجازت لی جاتی اور نہ ہی متعلقہ کمیٹیوں کے سامنے یہ مقدمات پیش کیے جاتے ہیں۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ محکمہ انکوائریز و اینٹی کرپشن کے قوانین کے تحت تمام مقدمات بنائے جائیں اور چالان پیش کیے جائیں۔ اینٹی کرپشن کے بعض افسران نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سابق چیئرمین کے حکم پر اینٹی کرپشن پولیس براہ راست مقدمات درج کرکے عدالت میں چالان پیش کر رہی تھی جو محکمہ کے قوانین کے خلاف تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے حکم کے بعد اب تمام مقدمات اور انکوائریز کے بعد متعلقہ کمیٹیوں کے روبرو کیس پیش کردیے جائیں گے۔ خیال رہے کہ اینٹی کرپشن کے قوانین کے تحت مجاز اتھارٹی کی اجازت سے مقدمات درج کرنے یا محکمہ جاتی کارروائی کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ تاہم گزشتہ چند سالوں سے بعض امور حکام کی اجازت اور کمیٹیوں کے سامنے معاملات رکھنے کا سلسلہ بند کردیا گیا تھا جو قوانین کے برعکس تھا۔