عوام کرفیو توڑ کر باہر نکلیں حریت رہنماء مزید 2 شہید

83
سری نگر: مقبوضہ وادی میں کرفیو کے 17ویں روز بھی قابض بھارتی فوج کے اہلکار وں نے ایک علاقے کا گھیرائو کررکھا ہے
سری نگر: مقبوضہ وادی میں کرفیو کے 17ویں روز بھی قابض بھارتی فوج کے اہلکار وں نے ایک علاقے کا گھیرائو کررکھا ہے

سرینگر(خبرایجنسیاں) مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کی آڑ میں 2 نوجوانوں کو شہید کر دیا۔حریت قیادت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کرفیو توڑ کر گھروں سے باہر نکلیں اور بھارتی اقدامات کے خلاف احتجاج کریں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو کے 17 ویں روز مزاحمت پر ایک سیکورٹی اہلکار مارا گیا۔سرینگر سے 40 نوجوانوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا، اب تک 6 ہزار سے زائد کشمیری گرفتار کیے جاچکے ہیں۔بھارتی قابض فوج نے بارہمولا کے علاقے میں مومن احمد غوری نامی نوجوان کو شہید کیا ،جوابی رد عمل میںکشمیریوں نے بھارتی اہلکار کو مار ڈالا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہے۔کشمیری نوجوانوں نے متعدد مقامات پر کرفیو کے باوجود گھروں سے باہر نکل کر بھارت مخالف نعرے لگائے، پتھراؤ کے 2درجن واقعات پیش آئے ہیں، پیلٹ گن اور آنسو گیس سے 8 کشمیری زخمی ہوگئے۔پوری وادی فوجی چھاؤنی کا منظر پیش کر رہی ہے، ہر گلی، ہر نکڑ، مین سڑکوں سمیت فوجیوں نے سیکورٹی حصار بنایا ہوا ہے، سڑکیں سنسان ہیں، تعلیمی ادارے ویران ہیں، جبکہ قابض انتظامیہ کے لیے یہ صورتحال کڑا امتحان بن چکی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسپتال اور کچھ خاندانوں سے اطلاعات ملی ہیں کہ 2ہفتوں کے دوران 3شہریوں کو شہید کیا گیا ہے سیکڑوں کی تعداد میں لوگ زخمی ہیں۔گرفتار نوجوانوں سے ملنے کے لیے والدین پولیس اسٹیشن کے باہر بے بسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج نے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، کٹھ پتلی رہنما فاروق عبد اللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو گھروں اور جیلوں میں نظر بند کر رکھا ہے۔ انٹر نیٹ، لینڈ لائن، موبائل سمیت دیگر سہولیات تاحال بند ہیں۔راتوں رات سرینگر حریت قیادت کی اپیل کے پوسٹرز سے بھرگیا، پوسٹرز پر حریت قیادت کی جانب سے قابض فوج کے خلاف مظاہروں کی اپیل کی گئی ہے۔حریت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار خطے کی آبادی کا تناسب بدلنے کے لیے گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے، عوام گھروں سے باہر نکلیں اور بھارتی حکومت کی سازش کو ناکام بنائیں، علما جمعہ کے خطبات میں قابض حکومت کے خلاف آواز بلند کریں۔ان کا کہنا تھا کہ عورتیں، بچے،جوان، بوڑھے بھارتی سرکار اور دنیا کو پیغام دینے کے لیے سڑکوں پر نکلیں، کشمیری کبھی بھی بھارتی قبضے اور ہندو ثقافت کے نفاذ کو تسلیم نہیں کریں گے۔خبر رساں ادارے کے مطابق سرینگر میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے مظاہرہ کیا، ایک شہری کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سے بھیک نہیں مانگ رہے ،ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم آزادی نہ حاصل کرلیں۔ بھارت ہمیں طاقت کے زور پر کچلنا اور چپ کروانا چاہتا ہے لیکن ہم ہار نہیں مانیں گے۔حکام کی جانب سے ڈراما رچانے کے لیے وادی میں سرکاری اسکول کھولے گئے تاہم والدین نے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے گھروں ہی میں پڑھانا شروع کر دیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت جھوٹ بول رہی ہے کہ بچوں کی بڑی تعداد اسکول میں پڑھنے کے لیے آئی، جب ہم دورے کے لیے گئے تو وہاں بچے نہیں تھے، ہر کلاس کو تالے لگے ہوئے تھے۔