شام میں تُرک فوجی قافلے پر بمباری‘ 3افراد شہید

82
ادلب: قافلے پر بم باری کے بعد ترکی کی مزید فوج اور گاڑیاں شام میں داخل ہورہی ہیں
ادلب: قافلے پر بم باری کے بعد ترکی کی مزید فوج اور گاڑیاں شام میں داخل ہورہی ہیں

انقرہ/ دمشق (انٹرنیشنل ڈیسک) شام میں ترکی کے ایک فوجی قافلے پر فضائی حملہ کیا گیا، جس میں کم از کم 3افراد مارے گئے۔ تُرک وزارت دفاع نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اس حملے میں 3 شامی شہری جاں بحق اور 12زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ابھی تک واضح نہیں کہ آیا اس حملے کے نتیجے میں کوئی تُرک فوجی بھی مارا گیا ہے۔ ترکی نے ان حملوں اور ان میں شامی شہریوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ فوجی قافلہ شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں سفر کررہا تھا اور اسے معرۃ النعمان کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ شامی مبصر برائے انسانی حقوق نے بھی بتایا ہے کہ اس وقت شام کے شمال مغرب میں ترکی کی عسکری گاڑیوں کے نزدیک فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہے۔ شامی مبصر کے مطابق ترکی کا حمایت یافتہ ایک عسکری قافلہ ادلب کے جنوبی دیہی علاقے میں خان شیخون قصبے کے اطراف ایک مانیٹرنگ پوسٹ قائم کرنے پر کام کر رہا ہے۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترکی نے ادلب کے دیہی علاقوں میں اپنی فوج کے مقامات کے قریب روسی اور اسدی افواج کے حملوں کے بعد مزید کمک ادلب پہنچا دی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق 40 عسکری گاڑیوں اور سیکڑوں فوجیوں پر مشتمل نئی کمک دمشق حلب قومی شاہراہ پر موجود ہے۔ دوسری جانب اسد حکومت نے پیر کے روز ادلب کے جنوب میں ترکی کے فوجی قافلے کے داخلے کی مذمت کی ہے۔ یہ پیش رفت خان شیخون کے شمال مغربی اطراف میں اسدی فوج کے داخل ہونے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ ادھر شام کے علاقے تل رافت میں تُرک فوج نے کرد تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کے جنگجوؤں کے حملوں کے جواب میں بعض اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔تُرک محکمہ دفاع کے مطابق فرات ڈھال آپریشن کے تحت علاقے میں گشت کے دوران تُرک فوجیوں پر دہشت گردوں نے حملہ کرتے ہوئے اشتعال دلانے کی کوشش کی، جس کے جواب میں تُرک فوجیوں نے دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔