پاکستان و افغانستان کو اپنے مشترکہ دشمن کو شکست دینا ہوگی‘ اسفند یار

64

اسلام آباد (اے پی پی)اے این پی کے صدر اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ دینی، تہذیبی، ثقافتی اور خونی رشتوں میں بندھے ہیں لیکن بدقسمتی سے دونوں ممالک بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہیں، موجودہ صورتحال سے نجات کے لیے پاکستان و افغانستان کو اپنے مشترکہ دشمن کو شکست دینا ہوگی اور اس مقصد کے لیے مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنا ہو گی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے یوم استقلال افغانستان کے کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے کچھ ممالک پراکسی وار کے ذریعے اسلامی ممالک میں یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں،جس سے خطے میںدہشت گردی کے ذریعے تشدد، عدم استحکام،اقتصادی پسماندگی لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت انتہائی اہم ہے، مذاکراتی عمل قدم بہ قدم آ گے بڑھ رہا ہے اور مثبت پیشرفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہے۔ آنے والے وقتوں میں بھی ہم اپنے افغان بھائیوں کے ہر دکھ درد اور خوشی میں شریک رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی نے آج پوری دنیا میں ایک مائنڈ سیٹ کی شکل اختیار کر رکھی ہے اس لیے دنیا کی تمام امن دوست اور بشر دوست قوتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ مل کر اس مائنڈ سیٹ کومات دیں۔ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے دونوں ممالک کو اپنی خارجہ و داخلہ پالیسیاں از سر نو تشکیل دینی چاہییں۔