اسلامی ممالک کے ساتھ ہیں انسانی حقوق کے لیکچر دینے والا یورپ کہاں ہے،ملیحہ لودھی

97

نیویارک (جسارت نیوز)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ سیکورٹی کونسل کا اجلاس ہونا ہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے اور اس کے اثرات جلد سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ بی بی سی کو ایک انٹرویومیں ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت نے اپنے طور پر سیکورٹی کونسل کا اجلاس روکنے کی بہت کوشش کی تھی تاہم ہم اجلاس کرانے میں کامیاب ہو گئے اور یہ پاکستان کا پہلا سفارتی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا بیان اچھا تھا اور انہوں نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ملیحہ لودھی نے سوال کیا ہے کہ یورپی ممالک کہاں ہیں جو ساری دنیا کو انسانی حقوق کا درس دیتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس سوال کا جواب میں کہ اسلامی ممالک تو آپ کے ساتھ نہیں ہیں کہا کہ اسلامی ممالک بھی ساتھ ہیں اور سعودی سفیر نے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے کہ کشمیر کے عوام کے حقوق کے لیے ہم مکمل تعاون کریں گے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل نے بھی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جب بی بی سی کے اینکر نے چین میں مسلمانوں کے حبس بے جا میں رکھے جانے کی خبروں پر پاکستان کے خاموش رہنے کی بات کی تو ملیحہ لودھی نے کہا کہ آپ ایشو کو بدلنے کی کوشش نہ کریں اس وقت بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 11 قراردادوں کو پامال کیا ہے یہ بین الاقوامی قوانین کا مسئلہ ہے وہ الگ مسئلہ ہے لیکن آپ کشمیر میں صورت حال خراب کرنے والے ملک کو کیوں بچا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر نے کشمیریوں کو حق خود اختیاری دی ہے لیکن کشمیر میں بھارتی فوج کی موجودگی نے ایک کروڑ 75 لاکھ لوگوں کو محبوس کررکھا ہے۔ وہاں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ پاکستان کشمیریوں کو انصاف دلانے کے لیے ہر قدم اٹھائے گا۔ یہ بین الاقوامی قوانین توڑنے کا معاملہ ہے۔ خود بھارتی قیادت بار بار کشمیریوں کو استصواب کا موقع دینے کا اعلان کرتی رہی ہے۔ ان کو اس سے کیوں محروم کیا جارہا ہے؟۔ بی بی سی کے اینکر نے ایک بار پھر چین میں مسلمانوں کے انسانی حقوق کی جانب رخ موڑنے کی کوشش کی تو ملیحہ لودھی نے پھر اسے واپس کشمیر کی طرف موڑ دیا۔ بی بی سی نے سوال کیا کہ آپ تو شملہ میں اس مسئلے کو دو طرفہ تسلیم کرچکے ہیں تو پھر اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کیوں رابطہ کیا ہے۔ اس پر ملیحہ لودھی نے کہا کہ کیا آپ ایسی دنیا بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی ملک اٹھ کر یکطرفہ طور پر کروڑوں لوگوں کی زندگی عذاب بنا دے۔ ملیحہ لودھی نے یورپ کے بارے میں کہا کہ یورپ ساری دنیا کو انسانی حقوق کے لیکچر دیتا ہے کشمیریوں کے انسانی حقوق پر کیوں خاموش ہے؟۔ اس پر اینکر نے رخ تبدیل کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا آپ اقوام متحدہ اور برطانیہ سے اس حوالے سے کچھ توقع رکھتی ہیں تو ملیحہ لودھی نے کہا کہ یقیناً یہ برطانیہ ہے جس نے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کا یہ ایجنڈا مکمل نہیں کیا اور آج خطہ بدامنی کا شکار ہے اس پر تو ہم برطانیہ سے پوچھنا چاہیں گے کہ وہ کیا کررہا ہے۔ ملیحہ نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں پر ظلم کی انتہا کردی ہے، کشمیریوں کی آواز دنیا کو سننا پڑے گی۔