کابل ،شادی کی تقریب میں دھماکہ 83 افراد جاں بحق 182 زخمی،پاکستان اور طالبان کی مذمت

84

کابل (خبر ایجنسیاں) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش دھماکے سے83 افراد جاںبحق جبکہ182زخمی ہوگئے ‘ کئی زخمیوں کی نازک حالت کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے‘تقریب میں 500سے زاید افراد شریک تھے۔ پاکستان اور طالبان نے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے‘ دولت اسلامیہ نے دھماکے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ایک خودکش بمبار نے شادی ہال کے اندر دھماکا کیا جبکہ دوسرا دھماکا شادی ہال کے باہرگاڑی میںریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا ‘ صوبہ بلخ میں بارودی سرنگ پھٹنے سے 12 شہری لقمۂ اجل بن گئے۔ صدر اشرف غنی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان دہشت گردوں کو مواقع فراہم کر رہے ہیں‘ دفترخارجہ پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ امن کے لیے سب کو مل کر دہشت گردی کو شکست دینا ہو گی‘ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانا جرم ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق ہفتے کو خودکش بم دھما کا پولیس ڈسٹرکٹ 6 میں واقع شارع دبئی ہال کے اندر ہوا۔ طالبان نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ ادھر افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد کابل میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے حملوں سے کہیں زیادہ ہے‘ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ عینی شاہد کے مطابق دھماکا مردوں کی جگہ پر ہوا ‘ 20منٹ تک شادی ہال میں دھواں بھرا رہا‘وہاں موجود تقریباً تمام افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ دھماکے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جگہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی۔ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے اور کہا کہ ان کے ایک خودکش بمبار نے شادی کی تقریب میں خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑالیا جبکہ دیگر شدت پسندوں نے شادی ہال کے باہر کھڑی ایک گاڑی کو بھی دھماکا خیز مواد سے اڑایا۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اس بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’وحشیانہ اقدام‘ قرار دیا اور طالبان پر دہشت گردوں کو مواقع فراہم کرنے کا الزام بھی عاید کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے افغانستان میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی خطے میں امن کے لیے مشترکہ طور پر خطرہ ہے ‘ہم سب کو ملکر دہشت گردی کو شکست دینا ہو گی۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر فیصل نے اتوار کو اپنے ایک جاری بیان میں کیا۔ ادھر حملے کے فوری بعد افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کو دیے گئے ایک پیغام میں اس دھماکے کی شدید مذمت کی اور اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے بہیمانہ حملوں کے ذریعے جان بوجھ کر عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ علاوہ ازیںافغان شمالی صوبہ بلخ میں سڑک کے کنارے نصب بارودی سرنگ پھٹنے سے گاڑی میں سوار خواتین اور بچوں سمیت 12 افراد جاں بحق ہوگئے۔