ایل آر بی ٹی میں ڈاکٹروں کی غفلت سے 20 افراد آنکھوں سے محروم

222

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آنکھوں کے اسپتال ایل آر بی ٹی میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت نے گھر کے واحد کفیل کورنگی کے رہائشی محمد عابد انصاری کو آنکھ سے محروم کر دیا،ملازمت سے بھی جواب مل گیا،آپریشن تھیٹر میں موجود بیکٹریا نے متعدد مریضوں کی بینائی چھین لی۔ تفصیلات کے مطابق کورنگی کے رہائشی محمد عابد انصاری 9 جولائی کو دائیں آنکھ سے دھندلا نظر آنے کی شکایت پر نجی سماجی تنظیم لیٹن رحمت اللہ بینوولینٹ ٹرسٹ (ایل آر بی ٹی) کے زیر انتظام فری بیس آئی اسپتال واقع کورنگی ڈھائی نمبر میں آنکھ کا معائنہ کرانے پہنچے تو وہاں موجود ڈاکٹر نے ان کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ ان کی آنکھ میں موتیا پک چکا ہے اور انہیں اگلے دن 10 جولائی کو آپریشن کی تاریخ دے دی۔ محمد عابد انصاری کی اہلیہ کے مطابق آپریشن کے 10منٹ بعد آنکھ پر پٹی کر کے انہیں ڈسچارج کر دیا گیا، دوسرے دن جب پٹی کھلوانے کے لیے گئے تو محمد عابد انصاری کی آنکھ سے مسلسل پانی نکل رہا تھا جس پر وہاں موجود ڈاکٹر نے انہیں ڈراپ دیے، ڈراپ دینے کے بعد ان کی طبیعت مزید خراب ہونا شروع ہوگئی، آنکھ میں انفیکشن بڑھنے کی وجہ سے وہ سوج گئی اور اس میں سے پس آنے لگا اور آنکھ مکمل سفید ہوگئی،میں اپنے شوہر کو لے کر اسپتال پہنچی تو وہاں اسپتال کے عملے کا رویہ انتہائی خراب تھا، میں بار بار ڈاکٹر اور عملے کو کہتی رہی کہ میرے شوہر کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو رہی ہے مگر کوئی سننے کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔ عابد انصاری کی اہلیہ کا مزید کہنا تھا کہ کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد میرے شوہر کو بلایا گیا اور انہیں ایک انجکشن لگایا گیا مگر انجکشن سے آرام آنے کے بجائے ان کی تکلیف مزید بڑھ گئی تو اسپتال انتظامیہ نے میرے شوہر کو داخل کر لیا، میرے سامنے وارڈ میں اس دوران قریباً 20 مریض ایسے لائے گئے جن کی حالت میرے شوہر جیسی ہو گئی تھی، طبیعت میں افاقہ نہ ہونے کی وجہ سے میں اپنے شوہر کو جناح اسپتال لے آئی جہاں ڈاکٹرز نے ان کی دائیں آنکھ آپریشن کے ذریعے نکالنے کا فیصلہ کیا کیوں کہ انفیکشن ان کی دوسری آنکھ کو بھی ضائع کرنے کا سبب بن سکتا تھا۔ عابد انصاری کی اہلیہ نے بتایا کہ میرے 3 چھوٹے بچے ہیں جو زیر تعلیم ہیں اور شوہر گھر کے واحد کفیل ہیں اور کریم سینٹر صدر میں ملازمت کرتے تھے لیکن اب انہیں ان کی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ دیگر متاثرہ مریضوں میں 59 سالہ رضیہ جن کا موتیے کا آپریشن کیا گیا تھا ان کی دائیں آنکھ میں پس پڑنے کے بعد آنکھ میں کیڑا لگ گیا ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے کہ ان کی بینائی ضائع ہوسکتی ہے۔ الیاس گوٹھ کے رہائشی 55 سالہ محمد اسلم کا بھی 8 جولائی کو دائیں آنکھ کا موتیے آپریشن کیا گیا تھا، آپریشن کے بعد سے آنکھ میں مسلسل پیپ آ رہی ہے اور سر میں مستقل درد ہے، شامل ہیں جبکہ دیگر مریضوں سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔اس ضمن میں اسپتال انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم رابطہ نہیں ہوسکا۔علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی ضلع کورنگی مولانا عبدالجمیل خان اور معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر ممتاز عمر نے ان تمام واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کو اپنا رویہ با اخلاق بنانے اور اسپتال کے انتظامی معاملات کو درست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر صحت سے ان واقعات کی تحقیقات کرانے کی درخواست کی ہے۔