پی پی سینیٹر روبینہ خالد پر فرد جرم کی کارروائی موخر،جعلی اکائونٹس ملزم کے ریمانڈ میں توسیع

65

اسلام آباد(صباح نیوز/آن لائن) لوک ورثہ فنڈز 30.13ملین روپے کے خورد برد کے الزام میں پیپلز پارٹی کی سینٹر روبینہ خالد پر فرد جرم کی کارروائی موخرکردی گئی ۔ منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی،سماعت کے موقع پر روبینہ خالد طبیعت ناسازی کے باعث پیش نہ ہوسکیں جس کے باعث ان پر فرد جرم عاید نہ ہو سکی۔احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر تمام ملزمان کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے فرد جرم کی کارروائی کے لیے2 اگست کی تاریخ مقرر کردی۔واضح رہے کہ یکم جولائی کو نیب راولپنڈی نے روبینہ خالد کے خلاف کرپشن ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر کیا تھا، ملزمان کی وجہ سے30.13 ملین روپے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔علاوہ ازیں احتساب عدالت اسلام آباد نے جعلی اکاؤنٹس کیس ملزم علی اکبر ابڑو کی جسمانی ریمانڈ میں 3 روزہ توسیع کر دی ، علی اکبر ابڑو کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیاجہاںنیب کی استدعاپرعدالت نے علی اکبر ابڑو کومزید ریمانڈ پر 26 جولائی تک نیب کے حوالے کر دیا،ملزم کو 26 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ آمدن سے زاید اثاثہ جات ریفرنس کے ملزمان نعیم محمود اور منصور رضا رضوی کے وکیل نے درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اپنایا کہ نیب عدالت میں بیان دے کہ ملزمان کے خلاف مزید تفتیش نہیں کریں گے ، جس پر نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہا اسطرح ممکن نہیں ہے کہ ہم پہلے ملزمان کو بتادیں کہ مزید تفتیش کریں گے ،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سماعت 31جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست پر باقاعدہ دلائل طلب کرلیے