وفاق کراچی کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے،جہانگیر ترین

69

کراچی(آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ وفاق کراچی کی بہتری کیلیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیارہے۔ بدین میں پانی کو روکا گیاہے جس کی میں مذمت کرتاہوں۔،سندھ حکومت سیاسی بنیاد پر پانی نہ روکے۔، عوام کو پانی فراہم کرے ، سندھ حکومت نے تہیہ کر لیاہے کہ صوبے کے لیے کچھ نہیں کرنا ہے۔ سندھ حکومت سیاسی بنیاد پر ہمارا ہاتھ پکڑنے کو تیار نہیں ہے۔سیاسی مسائل ایک طرف رکھ کر سندھ کے کاشتکاروں کیلیے کام کریں۔ منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے ملاقات کی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پارٹی ہمارے ساتھ کھڑی ہے اور ملک کے مسائل حل کرنے میں جو پیشرفت اور اقدامات اٹھائے ہیں ان میں ان کا ہمارا ساتھ ہے۔ آج ہم سندھ میں غربت کے حوالے سے بات کی چاہے وہ دیہی سندھ ہو ۔ ہمیں افسوس ہے کہ ایک سال گزرنے کے بعد سندھ حکومت تیسری بار آ رہی ہے اور سند ھ کے حالات بد سے بد تر ہو چکے ہیں ۔پانی کی کمی پر کوئی کام نہیں ہو رہا ہے ۔ وفاقی حکومت بار بار اپنا کام کر رہی ہے جبکہ سندھ حکومت نہیں کر رہی۔اس کے علاوہ سندھ کے حالات کو بہتر بنانے کیلیے وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کر رہی ہے ۔ افسوس کہ سندھ حکومت نے یہ تہیہ کیا ہے کہ سندھ حکومت کوئی کام نہیں کرے گی ۔ ہمیں افسوس ہے کہ سندھ کے وڈیرے ، پیپلز پارٹی کے حکمران سندھ کے پانی کو اپنے مفاد کیلیے استعمال کر رہے ہیں جبکہ دیہی سندھ کو وہ پانی نہیں مل رہا ۔ انہوں نے سندھ کے پانی کو روکا ہوا ہے ۔ یہ سیاسی بنیادوں پر سندھ کے پانی کو ردک رہے ہیں۔ پانی ایک نعمت ہے اس پانی پر سندھ کے عوام کا بھی حق ہے۔ اس بات فوری طور پر نوٹس لینا چاہیے اور جن علاقوں میں پانی مہیا نہیں کیا جا رہا وہاں پانی میسرکیا جائے ۔ اس کے علاوہ ہم نے ایگریکلچر پروگرام بنایا ہے سندھ ہمارا اس پروگرام میں ہاتھ نہیں پکڑ رہا ۔ سندھ حکومت کو کہا گیا کہ اس پروگرام میں ہمارے ساتھ آگے بڑھیں لیکن سندھ حکومت کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں ہوا۔ سندھ کے عوام تمام بڑے عہدیداران سے سوال پوچھیں کہ زراعت کا کام پاکستان کی تاریخ میں پہلے نہیں ہوا تو سندھ کے عوام کو اس سے کیوں دور کر رہے ہیں ۔ کیا وجہ ہے کہ وہ سندھ ایگریکلچر پروگرام کیلیے کوئی پیشرفت نہیں چاہتے ؟ کیا وہ نہیں چاہتے کہ درآمدات و برآمدات کا نام بڑھے اور سندھ کے عوام کو فائدہ ہو اور ان کے مسائل حل ہوں۔افسوس کی بات ہے کہ یہ کسی کام میں ہمارے ساتھ شامل نہیں ہوتے ۔ پچھلی کانفرنس میں زراعت کے حوالے سے بات کی تھی کہ آئیں ہمارے ساتھ جو مسائل ہیں ان کو ایک سائیڈ پر رکھو اور سندھ کے کاشتکاروں کے لیے کام کریں ۔ چیف جسٹس اس بات کا خود نوٹس لیں۔