مقبوضہ کشمیر میں مزاحمتی تحریک آگے بڑھانا ہوگی، چیئرمین کشمیر کمیٹی

63

اسلام آباد (صباح نیوز) چیئرمین کشمیرکمیٹی سید فخر امام نے کہاہے کہ برہان وانی کی شہادت سے پیدا ہونیوالی مزاحمت کو آگے بڑھانا ہوگا،معاشی طور پرمضبوط پاکستان ہی کشمیر کا کیس زیادہ اچھی طرح لڑے گا،مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے،بھارت
سیکولر ملک نہیں ہے ہندوتوا کیخلاف کانگریس بھی بات نہیں کرتی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ ہندوتوا سب سے بڑا خطرہ ہے، تیاری کرنا ہوگی نوجوان سوشل میڈیاکااستعمال کریں۔ ان خیالات کااظہارچیئرمین کشمیرکمیٹی سید فخر امام، ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے افروایشیا فورم کے زیراہتمام ہندوتوا نظریہ امن او رمعیشت کے لیے خطرہ کے عنوان سے منعقدہ گول میزمباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مباحثے سے کنوینرکل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی ،سابق وزیراعظم سردار یعقوب خان، چیئرمین افروایشیا فورم نعیم صدیقی، سربراہ تحریک نوجوانان پاکستان عبداللہ گل، حریت رہنما یوسف نسیم ، دفاعی تجزیہ نگارماریہ سلطان و دیگرنے بھی خطاب کیا۔ چیئرمین کشمیرکمیٹی سید فخر امام نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے کو 72سال ہوگئے ہیں،گرداس پور بھارت کو دینے کی وجہ سے کشمیر بھارت سے جڑ گیا،ریڈ کلف ایوارڈ میں ناانصافی کی بنیاد رکھی گئی مستقبل کی جنگیں پانی پر ہوں گی، فیروز پور بھی بھارت کو دیدیاگیا جبکہ اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ 1947ء سے لے کر اب تک 3 جنگیں بھارت کے ساتھ ہوچکی ہیں،بھارت جنگ سے خوف زدہ تھا کہ وہ شکست کھا جائے گااس لیے وہ مسئلہ کشمیرکو سلامتی کونسل میں لے کرگیا، سید فخر امام نے کہا کہ ہماری حیثیت بھی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے، برہان وانی کی شہادت کے بعد جو مقامی مزاحمت پیدا ہوئی اس پر بھارت ابھی تک قابو نہیں پاسکا ہے اس کو آگے لے کرجانا ہوگا۔کشمیر کمیٹی میں پہلی بار سینیٹ کے ارکان شامل ہیں یہ حکومت کا حصہ نہیں ہے۔سفارتخانوں کو کشمیر کے حوالے سے کردار دیاجائے گا۔مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے ایک لاکھ شہادتیں ہوئی ہیں۔ بھارت نے جو مظالم کشمیر میں کیے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا کے دفاعی ساتھی تھے مگر کشمیر کی کسی نے بات نہیں کی۔
کشمیر کمیٹی